اردو غزلیاتاکبر الہ آبادیشعر و شاعری

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

غزل از اکبر الہ آبادی

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی

عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی

یہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی

بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر

ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی

عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز

تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی

خطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباں

تو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی

ہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضب

کہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی

ہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔ

حرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی

اکبر الہ آبادی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button