Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
خودی سے پا کے اب فرار دور رہنا ہے
یہ آئینہ جو صاف ہے وہ اور بات ہے
کسی مٹی کی جانب سے
ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں
ہوا کی دستک
نسل نو میں عدم برداشت
بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے
دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش
ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے
اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں
سوال اب بھی وہی ہے جناب کیسے ہوا
ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں
تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا
ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی نہیں گئے
ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی
کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا
جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں
کچھ خاک سے ہے کام
کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا
مجھ کو یہ وقت وقت کو میں کھو کے خوش ہوا
رات گزری نہ کم ستارے ہوئے
امکان
جذبوں کا شاعر
شام کے سائے جلتے رہیں گے
پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے
چھوکری کی لوٹ
ردِّ عمل
تم ثروت کو پڑھتی ہو
چہل پہل ہے نہ تابندگی ہے گلیوں میں
کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟
عشق دی کُلّی
سکوت شام کا حصہ تو مت بنا مجھ کو
من جس کا مولا ہوتا ہے
خود سے جب بے زاری ہو
زمیں ہے مری آسمانی نہیں ہوں
کوئی دلاسا , تسلی , اداس لوگوں کو
تتلیاں نیند کی پہلے تو اڑائی جائیں
جس طرف دیکھیے طوفان نظر آنے لگے
کون کہتا ہے کی نفرت کو سدا دی جائے
آلو
آئی بینک
رحمن کے جوتے
ہڈیاں اور پھول
یوں تو میخانے میں مے کم ہے نہ پانی کم ہے
یوں تجھے ڈھونڈنے نکلے کہ نہ آئے خود بھی
چلو اک کام کرتے ہیں
یونہی مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ نکلے
یہی بہت ہے کہ محفل میں ہم نشیں کوئی ہے
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
رہتے ہیں یہ جو آپ کے اتنے قریب لوگ
قسم سے میں نے تو کمرے میں گنگنائی غزل
سکندراعظم
آئیے خود سے سوال کریں
ماتھے پہ ہواؤں کے شکن دیکھ مرے دوست
پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے
ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا
ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوں
واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے
وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
تبلیغ پیام ہو گئی ہے
سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے
حیاتِین – ب
نہ دے دیدار صدقے میں
عجیب دن ہیں
پھول صحرا کی ہتھیلی پہ جو دھر جاتے ہو
دل پہ دستک عجب گزرتی ہے
معاون اور میں
جب میں چھوٹا تھا
<<
1
...
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
...
140
>>