- Advertisement -

کوئی دلاسا , تسلی , اداس لوگوں کو

ارشاد نیازی کی ایک غزل

کوئی دلاسا , تسلی , اداس لوگوں کو
خدا کرے کہ دعا آئے راس لوگوں کو

کہاں رہائی میسر بدن کے پنجرے سے
غبار سینچتے ہم بدحواس لوگوں کو

اگر نہ ختم ہوئی اس زمیں کی عریانی
ادھیڑ دے گا فنا کا لباس لوگوں کو

یہ بیقراری, گھٹن, ہجر کے ہوئے عادی
سکوں ہے گالی اذیت شناس لوگوں کو

کئ دنوں سے اداسی کا پیرہن اوڑھے
بلا رہی ہے سمندر کی پیاس لوگوں کو

پلاؤ زہر حقیقت سے آشنائی کا
کھلاؤ وہم و ندامت کی گھاس لوگوں کو

برہنگی کی ندامت کا ذائقہ چکھ کر
عطا کرے گی لبادہ کپاس لوگوں کو

کسی نے بھیجا ہے اچھے نصیب کا میسج
کہا ہے سینڈ کرو اب پچاس لوگوں کو

کسی پہ کھلتا نہ ارشاد مفلسی کا راز
اگر نہ گھورتا خالی گلاس لوگوں کو

ارشاد نیازی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل