- Advertisement -

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

ایک صحت کالم از ڈاکٹر عبدالہادی

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

افواہوں کے اس دور میں کوشش ہے کہ آپ کو کچھ حقائق سے آگاہ کروں۔ تاکہ ہم غلط اطلاعات سے بچ کر درست سمت میں چلیں۔

"کرونا” ایک وائرس ہے۔ وائرس اللّٰہ تعالیٰ کی ایک عجیب مخلوق ہے جس کو انسان ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں سکا اور اس کی ساخت اور خصوصیات کے بارے میں سالوں سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔ اسی لئے وائرس سے ہونے والی ایسی بیماریاں جن کا وائرس جسم کو نہ چھوڑے انکا علاج نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ مثلاً ایڈز، ہیپاٹائٹس سی اور بی (کالا یرقان)، وغیرہ۔ لیکن ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے وائرس میں یہ خصوصیت بھی رکھی ہے کہ ان سے ہونے والی اکثر بیمار یاں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں مثلاً زکام، گلہ خراب، چکن پاکس (آکڑا لاکڑا)، ہیپاٹائٹس ائے (پیلا یرقان)، وغیرہ۔ مطلب یہ کہ ان بیماریوں میں وائرس کو مارنے والی ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہلکی پھلکی دوائی سے ایسے مریض جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں جن کی مدافعت اچھی ہو یعنی انہیں کسی قسم کی کمزوری یا کوئی اور بیماری نہ ہو۔ اور وائرس ایک سے دو ہفتوں میں خود ہی چلے جاتے ہیں۔

اب آتے ہیں "کرونا” کی جانب۔ کرونا وائرس کی ایک قسم کا نام ہے جس طرح "کبوتر” پرندوں کی ایک قسم کا نام ہے۔ لیکن جیسے کبوتر کی آگے مزید مختلف اقسام ہوتی ہیں اسی طرح کرونا کی بھی آگے مزید مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ 2002 میں سارس کی بیماری کی وجہ بھی ایک کرونا وائرس تھا۔ پھر 2012 میں میرس نام کی بیماری بھی ایک کرونا وائرس ہی سے ہوئی۔ اب موجودہ عالمی وبائی بیماری جس کا نام کو ویڈ انیس (COVID-19) ہے ایک نئی قسم کے کرونا وائرس جسے سارس کوو دو (SARS-CoV-2) کہتے ہیں سے پھیل رہی ہے۔

ہمارے ملک میں کچھ لوگ اس بیماری کا تقابلی مطالعہ ڈینگی سے کر رہے ہیں۔ ڈینگی اور COVID-19 میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ڈینگی آدھی صدی سے پرانی بیماری ہے اور اس کے بارے میں انسان کافی کچھ جانتے ہیں جبکہ COVID-19 ایک نئے جرثومے سے نکلنے والی بیماری ہے جس کے بارے انسان زیادہ نہیں جانتے۔

پہلے کچھ حوصلہ افزاء باتیں کر لی جائیں۔ COVID-19 سے متاثر ہونے والے لوگوں میں سے نوے فیصد کے لگ بھگ لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں جبکہ بہت تھوڑی تعداد میں یہ بیماری نمونیہ پیدا کرتی ہے۔ اور اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد اوسطاً 2سے 4 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

اب مزید آگے بڑھنے سے پہلے کچھ اس خاص نمونیہ کے بارے میں جان لیں۔ اگر COVID-19 کا جرثومہ ناک اور گلے تک رہے تو یہ نوے فیصد کے لگ بھگ لوگوں کو معمولی سا بیمار کر کے کچھ دنوں بعد ان کو چھوڑ کر چلا جائے گا۔ اور اگر یہ جرثومہ گلے سے نیچے پھیپھڑوں میں چلا گیا تو ایسا نمونیہ ہوگا جس کا عام نمونیہ کی ادویات سے ٹھیک ہونا بہت مشکل ہے۔ اور انہیں میں سے کچھ مریضوں کا انتقال بھی ہو سکتا ہے۔

اب اگلا سوال کہ یہ بیماری کن لوگوں کو ہو سکتی ہے اور کن لوگوں کے لئے جان لیوا ہو سکتی ہے۔ تو یہ ہر اس انسان کو ہو سکتی ہے جو اس کی زد میں آئے گا۔ اور ہر اس انسان کے لئے جان لیوا ہو سکتی ہے جس کی عمر زیادہ ہے یا جو پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہے یا کسی بھی عمر کا ایسا انسان جس کا مدافعتی نظام کمزور ہے۔

یہاں پر آپ کے ذہن میں ایک اور سوال آ سکتا ہے کہ اگر اس بیماری کے شکار زیادہ تر لوگ خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں تو دنیا میں اس کی ایمرجنسی کیوں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو اس کا پھیلاؤ آسان ہے۔ آسانی سے یہ سانس کے رستے جسم میں داخل ہو جاتی ہے اور دوسری بات یہ کی فرض کریں کہ یہ بیماری سو میں سے پانچ لوگوں کو نمونیہ کرے تو اس تناسب سے پاکستانی آبادی کے تقریباً ایک کروڑ لوگوں کو نمونیہ ہو سکتا ہے۔ اور COVID-19 سے ہونے والے نمونیہ میں مریض خود سانس نہیں لے پاتا۔ اسے سانس والی مشین لگانی پڑتی ہے جسے وینٹیلیٹر (ventilator) کہتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں وینٹیلیٹر امریکہ اور برطانیہ کے پاس بھی نہیں ہیں۔ اور تیسری بات یہ کہ اس بیماری کے شکار ان لوگوں کو جن میں علامات شدید نہیں ہیں ان کو مکمل ٹھیک ہونے تک سب سے الگ رکھا جاتا ہے جسے آئیولیشن (isolation) کہتے ہیں۔ اور کڑوروں لوگوں کے لئے isolation میں علاج کا انتظام دنیا کے کسی ملک کے پاس نہیں ہے۔ اس لئے عام آبادی کو گھروں میں رہنے کا کہا جاتا ہے اور مشکوک لوگوں کو چودہ دن کے لئے عام لوگوں سے الگ رکھا جاتا جسے قرنطینہ کہتے ہیں۔ کڑوروں لوگوں کے لئے قرنطینہ کا بندوست بھی بڑے سے بڑے ملک کے لئے تقریباً ناممکن عمل ہے۔

اس لئے اس بیماری کو پین ڈیمک (pandemic) کا درجہ دیا گیا ہے یعنی عالمی وباء۔ اس سے پہلے ہسپانوی زکام (Spanish Flu) نام کی بیماری 1918 میں pandemic بنی تھی جس میں دو سال میں پچاس کروڑ لوگ بیمار ہوئے تھے اور تقریباً پانچ کروڑ سے دس کروڑ تک لوگ مر گئے تھے۔ ویسے تو ایڈز بھی pandemic ہے لیکن شکر ہے کہ یہ سانس کے رستے نہیں پھیلتی۔

ایک اہم بات اور۔ آپ غورکریں کہ یہ سن 2020 چل رہا ہے جہاں میڈیکل سائنس بہت ترقی یافتہ ہے۔ اگر اس دور میں سائنسدان اس سے ڈر رہے ہیں اور یہ لوگوں کو مار رہی ہے تو سوچیں کہ یہ پہلی بیماریوں سے فی الحال زیادہ خطرناک ہے۔

اور یہ مشکل تب تک رہے گی جب تک اس سے بچاؤ کی دوا (ویکسین) یا اس کا علاج دریافت نہ ہو جائے۔ تب تک ہمیں حکومت کی بتائی ہوئی تمام ہدایات پر عمل کرنا ہے اور اپنے آپ کو اور باقی دنیا کو محفوظ رکھنا ہے۔
– باہر مت نکلیں۔
۔ لوگوں سے دو میٹر کے فاصلے پر رہیں۔
– گھر سے باہر کسی بھی چیز کو ہاتھ لگے تو ہدایات کے مطابق کم از کم 20 سے 30 سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں۔
– چھینک اور کھانسی کے دوران اپنے بازو کی کہنی والی جگہ سے منہ کو ڈھانپیں۔
– ہاتھ نہ ملائیں۔
– تھوک لگا کر کرنسی نوٹ نہ گنیں اور تھوک لگا کر کاغذوں کو نہ پلٹیں۔
– جگہ جگہ مت تھوکیں۔
– اپنے ماسک اور ٹشو جگہ جگہ مت پھینکیں۔
– چھوٹی موٹی بیماریوں کے لئے ہسپتالوں میں نہ جائیں۔
– اپنی مدافعت کو بڑھائیں۔ اس کے لئے تین وقت باقاعدگی سے متوازن کھانا کھائیں، موسم کا پھل کھائیں، اگر ذیابیطس (شوگر) نہیں ہے تو روزانہ ایک سے دو چمچی شہد لیں، پانچ سے دس بادام کھائیں، ایک پلیٹ تازہ سلاد کے اوپر ایک سے دو چمچی زیتون (extra virgin) تیل ڈال کر کھائیں، روزانہ گھر میں ایسی ورزش کریں جس سے تھوڑا تھوڑا سانس پھولے، دودھ پیئیں، ترش پھل یا وٹامن سی کی گولی کھائیں اور پر سکون اور خوش رہیں۔ اور تمباکو نوشی سے بھی گریز کریں۔

اب ذرا بات کر لیں عالمی اور قومی جھوٹ کی جو سوشل میڈیا اور ٹی وی پر گردش کر رہا ہے۔ تو ان کے بارے میں عرض ہے کہ کسی بات پر توجہ نہ دیں۔ صرف عالمی ادارہ صحت (WHO) جو کہے اس پر اعتبار کریں۔ باقی سب جھوٹ ہے۔ پیاز، لہسن، کلونجی، لیموں، اینٹی بائیوٹک، ملیریا کی دوا، گرم پانی، گرم موسم، وغیرہ۔ ان میں سے کسی بھی چیز سے COVID-19 کا علاج ثابت نہیں ہوا۔

اور بات رہی سازش کی۔ تو جناب یہ سازش ہے یا نہیں۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے اور لوگ اس سے متاثر بھی ہو رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی اس سے بچنا ہے۔

ہاتھ دھونے کے لئے صابن بہترین ہے۔ مائع صابن (liquid soap) ہو تو بہتر ورنہ ٹکی والا بھی ٹھیک ہے۔ اور اگر صابن نہ ہو تو الکوحل والا ہینڈ سینیٹائزر (hand sanitizer) استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوٹیوب پر گھر پر بنائے جانے والے hand sanitizer کے حوالے سے پتہ نہیں کیا کیا پیش کیا جا رہا ہے جو کہ ڈیجیٹل جہالت کی ایک قسم ہے۔ WHO کا تجویز کردہ hand sanitizer کا فارمولا حسب ذیل ہے۔

– Ethyl Alcohol or Isopropyl Alcohol
– Glycerine
– Hydrogen Peroxide

مقدار میں نے جان بوجھ کر نہی لکھی تاکہ آپ خود WHO کی ویب سائٹ پر جا کر پڑھیں اور چاہیں تو گھر پر یہ بنا لیں۔ ویسے اس کی ضرورت ہسپتال میں زیادہ ہوتی ہے۔ گھر پر صابن بہترین ہے۔

میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر کافی باتیں ہو گئی ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے ان پہلوؤں پر بات کروں جن پر پہلے کم بات ہوئی ہے اور ان پہلوؤں کا تعلق خاص طور پر ہمارے ملک سے ہے۔

آخر میں ہمارے ملک میں اس جنگ کے پہلے شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب کو خراجِ عقیدت۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ اور اس وقت اس عالمی وباء سے نبرد آزما، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف، پولیس، فوج، حکومت اور ہر وہ شخص جو اپنا کردار ادا کر رہا ہے ان سب کو خراج تحسین۔

اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ اپنا اور دوسروں کا خیال رکھیں۔

ڈاکٹر عبدالہادی
ایم بی بی ایس، ایم ڈی (میڈیسن)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
وحید احمد پر ایک اردو مضمون