اردو غزلیاتایلزبتھ کورین موناشعر و شاعری

ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا

ایلزبتھ کورین مونا کی ایک اردو غزل

ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا

دل ہی ہے ایک آسرا دل کا

چار سو بے خودی میں پھرتا ہے

کچھ ٹھکانا نہیں رہا دل کا

رسم دنیا کو کیوں یہ مانے گا

ہے الگ جگ سے قاعدہ دل کا

شیخ و پنڈت کو کوئی سمجھائے

رب سے رہتا ہے رابطہ دل کا

راہ انسانیت ہی اول ہے

ہے یقیناً یہ فلسفہ دل کا

دو جہاں بھی یہاں سما جائیں

کتنا پھیلا ہے دائرہ دل کا

لب تلک آ کے بات ہی بدلی

کیا کرے لفظ ترجمہ دل کا

عقل کب آئے گی تمہیں موناؔ

مانتے کیوں ہو تم کہا دل کا

ایلزبتھ کورین مونا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button