Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
ہے عجیب شہر کی زندگی
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو
راکھ اڑتی ہے اب ہلالوں پر
آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو
تری تلاش میں نکلے ہوؤں کا حصّہ ہیں
تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں
کیا بیابان، کیا نگر جاؤ
ذہن میرا جِلا کے رُخ پر ہے
مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی
وہ لب میری نظر کے سامنے ہے
نہ سہ سکوں گا غمِ ذات گو اکیلا میں
مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک
<<
1
...
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
...
699
>>