Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے
گردش جام نہیں ، گردش ایام تو ھے
عام ھے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات
غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
طویل راتوں کی خامشی میں
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں
ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں
زندگی سے ڈرتے ہو؟
کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے
جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں
<<
1
...
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
...
699
>>