Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آئینے کے جب منظر افتاد میں ڈھلتے ہیں
آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی
یاد تیری مرے تن من میں اترآتی ہے
قصّے کہانیوں میں چھپایا گیا مجھے
آنکھ سے گرتے ہوئے اشک کا شک اُٹھتا ہے
رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو
خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے
یہ اُداسی سدا بحال رہے
ہوا ہوں نیند سے بیدار حیرانی اٹھا کر میں
فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ
ہمیں جزیرہ ء امکان تک پہنچنا ہے
میں اپنی خاک گراتا رھا سمندر میں
آنکھوں میں مری پہلی سی بینائی نہیں ہے
سر ہمارے یہ جو مقتل کے حوالے ہوئےہیں
<<
1
...
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
...
699
>>