Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
مِرے مذاقِ سُخن کو
مری محبت تو اِک گُہر ہے تری وفا بے کراں سمندر
وہ ہوئے پردہ نشیں
دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب
دو روز میں شباب کا عالم گزر گیا
آہی گیا وہ مجھ کو
سایۂ گل سے بہر طور جدا ہو جانا
ہم میں ہی تھی نہ کوئی بات
سفر تنہا نہیں کرتے
اک بار پھر وطن میں
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
بُھولا ہُوا افسانہ
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
دل ابھی تک جوان ہے پیارے
<<
1
...
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
...
699
>>