Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
گویا انداز شاہانہ ہے امیروں جیسا
بے زباں رہے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
غم موجود ہے
نئی طرح سے نبھانے کی دل نے ٹھانی ہے
جب تیری دُھن میں جیا کرتے تھے
ہم یوسفِ زماں تھے ابھی
شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں
طلوعِ صبحِ درخشاں، فروغِ حسنِ بہار
بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
دل جلا کر بھی دلربا نکلے
بزمِ یاراں میں کیا گل کھلائے گئے
ہر سمت غمِ ہجر کا طوفان ہے محسن
روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کرگیا
<<
1
...
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
...
699
>>