اردو غزلیاتڈاکٹر صباحت عاصم واسطیشعر و شاعری

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

اس کہانی میں اضافی تذکرہ میرا بھی ہے

بے سبب آوارگی مصروف رکھتی ہے مجھے

رات دن بیکار پھرنا مشغلہ میرا بھی ہے

بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر

مشورہ مجھ سے بھی کر کچھ تجربہ میرا بھی ہے

کیا ضروری ہے اندھیرے میں ترا تنہا سفر

جس پہ چلنا ہے تجھے وہ راستہ میرا بھی ہے

ہے کوئی جس کی لگن گردش میں رکھتی ہے مجھے

ایک نکتے کی کشش سے دائرہ میرا بھی ہے

بے سبب یہ رقص ہے میرا بھی اپنے سامنے

عکس وحشت ہے مجھے بھی آئنہ میرا بھی ہے

ایک گم کردہ گلی میں ایک ناموجود گھر

کوچۂ عشاق میں عاصمؔ پتہ میرا بھی ہے

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button