- Advertisement -

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

اس کہانی میں اضافی تذکرہ میرا بھی ہے

بے سبب آوارگی مصروف رکھتی ہے مجھے

رات دن بیکار پھرنا مشغلہ میرا بھی ہے

بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر

مشورہ مجھ سے بھی کر کچھ تجربہ میرا بھی ہے

کیا ضروری ہے اندھیرے میں ترا تنہا سفر

جس پہ چلنا ہے تجھے وہ راستہ میرا بھی ہے

ہے کوئی جس کی لگن گردش میں رکھتی ہے مجھے

ایک نکتے کی کشش سے دائرہ میرا بھی ہے

بے سبب یہ رقص ہے میرا بھی اپنے سامنے

عکس وحشت ہے مجھے بھی آئنہ میرا بھی ہے

ایک گم کردہ گلی میں ایک ناموجود گھر

کوچۂ عشاق میں عاصمؔ پتہ میرا بھی ہے

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل