اردو نظمشعر و شاعریعزیز نبیل

بے خوابی

عزیز نبیل کی ایک اردو نظم

بے خوابی

نیند آنکھوں میں کسی ڈوبتے تارے کی طرح
کسمساتی ہے سمٹ جاتی ہے مر جاتی ہے
صندلیں ہاتھوں سے دستک کبھی دیتی ہے مگر
ذہن کی آہنی دیوار سے ڈر جاتی ہے
گاہ خوش رنگ خیالوں کا لبادہ اوڑھے
کسی نشتر کی طرح دل میں اتر جاتی ہے
یا کبھی کوئی ستم پیشہ محبت بنکر
پاس آتی ہے مگر آ کے گذر جاتی ہے

ذہن شوریدہ خیالوں کا الم بستہ ہجوم
اپنے کاندھوں پہ لیے بھاگ رہا ہے ایسے
جیسے ٹھہرے گا تو پتھر میں بدل جائے گا
جیسے کٹ جائیگا شمشیرِ برہنہ کے تلے
جیسے قدموں سے زمیں دور سرک جائے گی
جیسے اِس موڑ کے اُس پار بہت آگے اُدھر
کوئی دوشیزہ کھڑی ہو اُسے ملنے کے لیے

سرد ہوتی ہوئی آنکھوں کی فصیلوں سے پَرے
ایک ہنگامۂ محشر ہے کہ بڑھتا جائے
ریت اڑتی ہوئی سنسان گلی کوچوں میں
رات کا اونگھتا سنّاٹا بکھرتا جائے
زنگ آلود ستاروں کا دھواں ساتھ لیے
چاند ہر لمحہ کسی آگ میں جلتا جائے
نیم کی شاخ پہ مرتا ہوا تنہا جگنو
درد کا آخری پیغام سناتا جائے

آہ اس درجہ اذیّت نہیں جھیلی جاتی
اتنی وحشت ہے کہ دل آج ہی مرنا چاہے
روح لٹکی ہے صلیبِ درِ تنہائی پر
سرد آنکھوں میں بس اک بار مچلنا چاہے
اور یہ جسم کہ بے خواب و جنوں پروردہ
شبِ بے رحم کی سفّاکی سے بچنا چاہے
اور پھر بسترِ کمخواب میں آزادی سے
ایک دو عمر کسی غار میں سونا چاہے

عزیز نبیلؔ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button