اردو غزلیاتشعر و شاعریعباس تابش

یہ ہم کو کون سی دنیا کی دھن آوارہ رکھتی ہے

عباس تابش کی ایک اردو غزل

یہ ہم کو کون سی دنیا کی دھن آوارہ رکھتی ہے

کہ خود ثابت قدم رہ کر ہمیں سیارہ رکھتی ہے

اگر بجھنے لگیں ہم تو ہوائے شام تنہائی

کسی محراب میں جا کر ہمیں دوبارہ رکھتی ہے

چلو ہم دھوپ جیسے لوگ ہی اس کو نکال آئیں

سنا ہے وہ ندی تہہ میں کوئی مہ پارہ رکھتی ہے

ہمیں کس کام پر مامور کرتی ہے یہ دنیا بھی

کہ ترسیل غم دل کے لیے ہرکارہ رکھتی ہے

کبھی سر پھوڑنے دیتی نہیں دیوار سے تابشؔ

یہ کیا دیوانگی ہے جو ہمیں ناکارہ رکھتی ہے

عباس تابش

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button