اردو غزلیاتشعر و شاعریعباس تابش

وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

عباس تابش کی ایک اردو غزل

وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

مگر وہ کوئی مناسب بہانا چاہتا ہے

یہ زندگی ہے یہ تو ہے یہ روزگار کے دکھ

ابھی بتا دے کہاں آزمانا چاہتا ہے

کہ جیسے اس سے ملاقات پھر نہیں ہوگی

وہ ساری باتیں اکٹھی بتانا چاہتا ہے

میں سن رہا ہوں اندھیرے میں آہٹیں کیسی

یہ کون آیا ہے اور کون جانا چاہتا ہے

اسے خبر ہے کہ مجنوں کو راس ہے جنگل

وہ میرے گھر میں بھی پودے لگانا چاہتا ہے

وہ خود غرض ہے محبت کے باب میں تابشؔ

کہ ایک پل کے عوض اک زمانہ چاہتا ہے

عباس تابش

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button