- Advertisement -

Wo Aanay Wala Nahi

An Urdu Ghazal By Abbas Tabish

وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

مگر وہ کوئی مناسب بہانا چاہتا ہے

یہ زندگی ہے یہ تو ہے یہ روزگار کے دکھ

ابھی بتا دے کہاں آزمانا چاہتا ہے

کہ جیسے اس سے ملاقات پھر نہیں ہوگی

وہ ساری باتیں اکٹھی بتانا چاہتا ہے

میں سن رہا ہوں اندھیرے میں آہٹیں کیسی

یہ کون آیا ہے اور کون جانا چاہتا ہے

اسے خبر ہے کہ مجنوں کو راس ہے جنگل

وہ میرے گھر میں بھی پودے لگانا چاہتا ہے

وہ خود غرض ہے محبت کے باب میں تابشؔ

کہ ایک پل کے عوض اک زمانہ چاہتا ہے

عباس تابش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Shakeel Badayuni