- Advertisement -

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد

ایک اردو غزل از حسن عباس رضا

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد

تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد

کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا

دریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شد

دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی

پہنچی دکھوں کی آنچ تو دنیا تمام شد

شہر دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے

کیا بچ گیا ہے راکھ میں اور کیا تمام شد

عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آ پڑا

مجنوں کے دل سے حسرت لیلیٰ تمام شد

ہم شہر جاں میں آخری نغمہ سنا چلے

سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد

اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسنؔ

ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد

حسن عباس رضا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
انجلاء ہمیش کی ایک اردو نظم