- Advertisement -

Raat Aur Din Ki Biyabani

Urdu Nazam By Farhat Abbas Shah

رات اور دن کی بیابانی

رات اور دن کی بیابانی سے محسوس ہوا
کچھ نہ کچھ غائب ہے
کچھ نہ کچھ ایسا جسے ہونا تھا
تو، تیرے خواب، تمنائیں یا امید کوئی
منتظر دل، لب بے آب یا چشم پرنم
کوئی محرومی یا بے چینی کوئی
کچھ خلا ایسے بھی ہوتے ہیں کہ آ جاتی ہے رونق جن سے
عمر کے اجڑے ہوئے شہروں میں
زندگی ہوتی ہے کچھ زہروں میں
ہم جو تریاق سمجھ کر تجھے بھولے تو سمجھ آیا کہ جیون کیا ہے
تیرے آ جانے کی امید پہ اٹکی ہوئی سانسوں کی قسم
زندگی کچھ نہیں اندوہ بنا
تیرے اندوہ کو دیکھا ہے الگ کر کے تو پھر کچھ بھی نہیں باقی بچا
تیری یادوں میں بہائے ہوئے آنسو جیون
تیرے خوابوں سے بسائی ہوئی بستی جیون
تیرے زخموں سے سجایا ہوا رستہ جیون
رات اور دن کی بیابانی سے محسوس ہوا
ساری ویرانی تیرے بعد ہوئی ہے پیدا
***

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Nazam By Farhat Abbas Shah