اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

جب سے دیکھا پَری جمالوں کو

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

جب سے دیکھا پَری جمالوں کو

مَوت سی آ گئی خیالوں کو

دیکھ تشنہ لبی کی بات نہ کر

آگ لگ جائے گی پیالوں کو

پھر اُفق سے کِسی نے دیکھا ہے

مُسکرا کر خراب حالوں کو

فیض پہنچا ہے بارہا ساقی

تیرے مستوں سے اِن شوالوں کو

دونوں عالم پہ سرفرازی کا

ناز ہے تیرے پائمالوں کو

اس اندھیروں کے عہد میں ساغر

کیا کرے گا کوئی اُجالوں کو

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button