آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

اس درجہ میرے فن کا حسد مت کرو اے دوست

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

اس درجہ میرے فن کا حسد مت کرو اے دوست
میں نیک دل ہوں ایسے تو بد مت کرو اے دوست

آواز کی تھکان کا گریہ بھی کم نہیں
تم اپنی خامشی کو سند مت کرو اے دوست

اب میری آنکھ نیند کا تاوان بھر چکی
میرے کسی بھی خواب کو رد مت کرو اے دوست

دنیا ہے اور بھی ہیں کئ در کھلے ہوئے
اونچا کبھی اناؤں کا قد مت کرو اے دوست

ممکن اگر ہو ساتھ دو مظلوم کا, مگر
جو ظلم ڈھائے اسکی مدد مت کرو اے دوست

دل میں اگر خیال کسی دوسرے کا ہے
بیکار پھر زباں سے احد مت کرو اے دوست

ارشاد کب تلک میں سہوں ہجر کا عذاب
آ جاؤ سانس تھم رہی , حد مت کرو اے دوست

ارشاد نیازی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button