اک مدت سے وہ دروازہ بند تھا۔کون کھولتا وہاں کے رہنے والے تو شہر میں رہائش پذیر تھے۔آخر بہت عرصے بعد کچھ کو خیال آیا وہاں کا رخ کیا جاۓ۔آخر وہاں کے رہنے والوں کے پیغامات جو وصول ھو رہے تھے ۔بھائ اپنے گھر کو دیکھو یہ تو کسی دن ہمارے اوپر آجانا۔
جب گھر کا دروازہ کھولا تو دیواروں کی ویرانی۔بنجر زمین سے نکلتے پودے۔ٹوٹا بکھرا سامان اور اک وہشت ذدہ ماحول الگ ہی کہانی بتا رہا تھا۔
وہ چینخ چینخ کر اپنی داستان سنا رہا تھا۔میرا کیا قصور تھا۔
ہر کونے میں اک سناٹے کے پیچھے کچھ قہقے۔رونقیں۔ اک کہانی رو رہی تھی۔ کہ میری سنو میری تکلیف کا مداوا کرو۔اسکے رہنے والے دیکھ کر پریشان تو ھوۓ پر دکھ سے زیادہ فکر اس بات کی تھی اتنے نقصان کا خرچہ کتنا ھو گا؟ ۔کاش ھم نے اس پر توجہ دی ہوتی۔ اک کمرے کی گری چھت کا ملبہ آہبکاں کر رہا تھا ۔پوچھ رہا تھا آگۓ تم مجھے اٹھانے دیکھ لو میں انتظار کرتا رہا تھا کہ تم آؤ گے مجھے بچا لو گے۔ مگر تم تو شہر کی رونقوں میں مصروف تھے ۔تمہارے کانوں میں تو شہر کا شوروغل تھا۔ میرے اندر کی دھڑاڑیں تمہیں کیسے نظر آتیں تم تو شہر کی روشنی میں اندھے ہوۓ پڑے تھے میں انتظار کر کر کہ آخر گر گیا۔اب میرا ملبہ اٹھاؤ میری گزری یادوں کا ملبہ مجھے آج بھی یاد ھے میرے نیچے کتنی رونق ہوا کرتی تھی جب تمہارا باپ تمہارے لیے محنت کرکے تھکا ہارا گھر آتا تھا میرے نیچے آکر بیٹھتا تھا تو مجھے دیکھ کر شکر ادا کرتا ھے جب تم بیمار ھوتے تو کیسے دن رات تمہارا خیال رکھتا تھا تم سے اس کی کمائ سے بنا گھر نہ سنبھالا جا سکا۔تم کیسے مجھے بھول گۓ۔میں تمہارے بزرگوں کا قیمتی اثاثہ تھا۔دیکھو آج میں گر گیا کمزور پر گیا۔ختم ھو گیا تمہاری راہ تکتے تکتے۔
اب اس گھر میں تعمیر کا کام شروع ھو گیا مزدور آگے ملبہ اٹھایا جانے لگا پودے کاٹے گۓ۔دیواریں خستہ حالی میں رو رہی تھی اور اس گھر کا باشندہ حیران ھو رہا تھا میرے باپ دادا نے اتنا مضبوط کام کروایا تھا کہ ابھی تک بہت سے حصے مضبوط تھے۔مزدور کہہ رہے تھے
صاحب جی۔ابھی بھی وقت ھے اسے ٹھیک کر لو یہ زمین بنجر نہی ھیرا ھے ھیرا ۔اور اپنی جگہ ایسے نہی چھوڑتے ۔صاحب جی زمین بھی بددعا دیتی ھے۔اگر اسے آباد نہ کیا جاۓ۔اور جناب آج کے دور میں کون اپنی زمین چھوڑ کر کیسے دوسروں کی زمین آباد کرتا ھے۔جناب اگر اپنی چھت ھو تو تھوڑے میں بھی گزارا ھو جاتا۔بس بات سمجھنے کی ھے۔
ایسی ہی کہانی ہر انسان کی ھے ۔بہت سے ہمارے اپنے اندر سے ایسے ہی بنجر ہیں۔ ٹوٹے بکھرے ھوۓ خستہ حال۔ ان کے دلوں میں بہت سے غموں ۔دکھوں۔ لہجوں۔ رویوں۔ کا ملبہ بکھڑا پڑا ھوتا ہے۔پر ہمارے اپنے رونقوں میں شوروغل میں اتنے مصروف ھوتے ہیں انکو وہ دل وہ پرانے بوسیدہ گرے ھوۓ گھر نظر ہی نہی آتے۔وہ خاموش احتجاج کے ساتھ چینخ کر پکار رہے ھوتے ہیں مجھے بچالو گرنے سے۔ برباد ھونے سےپر نۓ رشتوں میں وہ پرانا رشتہ نظر نہی آتا۔ اور آخر اک دن وہ گر جاتا ھے۔ یا تو ھمیشہ کے لیے ختم ھو جاتا ھے یا ویرانیت کی شکل میں اپنے آخری پل کا انتظار کرتا کرتا ہسپتالوں کے بستر پر سانسیں گن۔رہا ھوتا ھے کب یہ ختم ھوں اور میں آزاد ھو جاؤ یا انکو آزادی دے جاؤ اپنے بوجھ سے۔
اپنوں کی قدر کیا کریں وقتا وقتا انکو محبت سے تعمیر کرتے رہا کریں بہت سے اپنے خاموش ھوتے ہیں پر اندر سے رو رہے ھوتے ہیں۔
اور ان کی خاموشی اور بنجر زمین کی خاموشی کی اذیت اک برابرھوتی ھے۔
جب وہ اپنے نہی رہتے پھر احساس ھوتا ھے قدر جانے والے کی ۔بس فرق اتنا ہے پیسوں سے زمیں و مکاں تو بچ جاتے ہیں۔پر گۓ ھوۓ انسان واپس نہی آتے ۔وہ خاموش ھو جاتے ہیں اور اسی زمیں کے نیچے ہمیشہ کے لیے مدفون ھو جاتے ہیں۔
کہانی اور ذندگی دو الگ رخ میں اک باب ہیں۔
جو محبت۔ احساس۔خوبصورتی کے مختاج ہیں۔
صنم فاروق حسین








