اردو غزلیاتخورشید رضویشعر و شاعری

کچھ اس ادا سے کوئی

خورشید رضوی کی ایک اردو غزل

کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھے

کہ ہارنے بھی نہ دے اور آزمائے مجھے

اس انتظار میں ہوں نقش رائیگاں ہو کر

ترا کرم کسی محراب میں سجائے مجھے

ترے نثار کسی ایسے غم گسار کو بھیج

کہ دل کی بھول بھلیوں سے ڈھونڈ لائے مجھے

یہ جی میں ہے کہ سراپا وہ نغمہ بن جاؤں

کہ جس کو تجھ سے محبت ہو گنگنائے مجھے

کسی کی دھن میں پریشاں تو ہوں بکھر ہی نہ جاؤں

گلے نہ موجۂ باد صبا لگائے مجھے

گلوں سے کم نہیں کانٹوں کی سیج بھی خورشیدؔ

خیال یار اگر چین سے سلائے مجھے

خورشید رضوی

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button