اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر جلال آبادی

قسمت کے کب جاگے درباں

ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی

قسمت کے کب جاگے درباں

توڑ چکا جب میں درِ زنداں

اُن کے رخ پر گیسوئے پیچاں

لاکھوں کافر ایک مسلماں

ذکر ہماری کشتی کا ہے

ساحل ساحل طوفاں طوفاں

سوچو تو انسان میں کیا ہے !

ٹھیس لگے مر جائے انساں

دونوں کو بجلی نے پھونکا

میرا گھر گلہائے گلستاں

اہلِ قفس کی خیر ہو یارب

بیٹھا ہے صیاد پریشاں

کیا ہے گلشن پھول نہیں جب!

پھول بنا دیتے ہیں گلستاں

قمر جلال آبادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button