اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

ہر روز امتحاں سے گزارا

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا

تیرا تو کچھ گیا نہیں مارا تو میں گیا

جب تک میں ترے پاس تھا بس تیرے پاس تھا

تو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا

یہ چاند یہ چراغ مرے کام کے نہیں

آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا

اپنی انا کی آہنی زنجیر توڑ کر

دشمن نے بھی مدد کو پکارا تو میں گیا

تیری شکست اصل میں میری شکست ہے

تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا

 

سعود عثمانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button