اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

اس خامشی میں مجھ کو کسی نے پکارا کیا

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

اس خامشی میں مجھ کو کسی نے پکارا کیا

مہتاب آگیا ہے پلٹ کر دوبارہ کیا

ہم خواب زاد لوگ ہیں ، خانہ بدوش ہیں

ہم تو خود اپنے ساتھ رہیں گے ہمارا کیا

ہر سایۂ رواں کی طرح صرف تھوڑی دیر

اس دشت میں کرے گا کوئی ابر پارہ کیا

ا ے عشق، اے مجاز کے اس پار اصل عشق

تو مجھ پہ ہوسکے گا کبھی آشکارا کیا ؟

سب مدح و ذم سعود گئے دن کی بات ہے

دل شاد ہو تو آئنہ کیا سنگِ خارا کیا

سعود عثمانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button