- Advertisement -

Jhootan

An Awarded Afsaana By Wajida Tabassum

جھوٹن – افسانہ از واجدہ تبسم

"حرامزادے پاواں دبا ریا کہ مذاخ کرریا رے ؟”
بڑے سرکار نے زور سے لات ماری اور کلوا ایک لڑھکنی کھاکر دور جا گرا۔
"ہاتھا کا دم کائے سے چلا گیا؟ حرام خوروں کو کتا بھی کھلاؤ پلاؤ۔ خون میں جو مستی ہور کام چوری کی عادت ہیں سو ہے، اٹھ ذرا زور دے کر دبا۔”
کلوا اپنی مٹھی بھر ہڈیاں کو سمیٹتا اٹھا اور پھر بڑے سرکار کے شان دار بستر پر ڈرتا، سہمتا چڑھ گیا۔ آج اس کے ہاتھ پاؤں واقعی کام نہیں کر رہے تھے۔ اسے ان میں دم ہی محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔ پیٹ میں کچھ ہو تو انسان میں طاقت بھی آئے ۔ یہاں تو زندگی کا طور ہی نرالا تھا۔
ڈیوڑھی کام کاج کرنے والوں سے بھری پڑی تھی۔ ایک تو انائیں تھیں، جو غریب، مگر شریف گھرانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائی جاتی تھیں۔ تاکہ نومولود پاشا لوگوں کو دودھ پلائیں۔ان کی چاندی ہی چاندی تھی۔ بیگمات بیبیوں کا سا، بلکہ ان سے بھی بڑھ چڑھ کر کھانا ملتا ۔ تاکہ نئی نسل اچھی طرح پروان چڑھے اور بچوں کو دودھ کی کمی نہ رہے ۔
دوسرے درجے پر مامائیں تھیں جو مطبخ کی کرتا دھرتا تھیں۔ پہلے ان ہی کے ہاتھوں سے ہوکر کھانا پاشا لوگوں تک پہنچتا تھا۔ چکھتے پکتے ہی اتنا اڑا جاتیں کہ پیٹ بھر جاتا، اور جو یہ نہ ہوتا تو چرا چرو کر پیٹ بھر لیتیں۔
تیسرے نمبر پر اوپر کے کام کاج کی چھوکریاں اور چھوکرے مابلی، تمبولی۔۔ چوکیدار اور چاؤش آتے تھے ۔ جن کا کھانا ڈیوڑھی ہی سے ملتا تھا ۔ ان کا کھانا کھٹی دال، چاول، سبزی پر مشتمل ہوتا۔ بڑی سرکار کھانا بننے کے وقت خود آ کھڑی ہوتیں۔۔۔ وہ اچھے خاصے چمچوں کو جن میں ذرا بھی گہرائی ہوتیں ، ٹھونک پیٹ کر سیدھا کرا لیتی تھیں کیوں کہ ڈونگے اور گہرے چمچوں میں زیادہ سبزی اور دال چلی جاتی ہیں اور خواہ مخواہ اناج کی بربادی ہوتی ہے۔ اب یا تو الٹے چمچ سے کھانا پروسا جاتا یا ان ٹھونکے پٹے چمچوں سے۔۔۔ بہرحال پیٹ تو سب کا پل ہی رہا تھا۔
اب چوتھے نمبر پر ساری مصیبت ان اوپر کے کام کرنے والے چھوکروں کی تھی جو مردانے میں محض سوکھے پر نوکر تھے ۔ دو روپے کلدار ان کی تنخواہ ہوتی، کھانا انہیں اپنے گھر پر جاکر کھانا پڑتا۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ ڈیوڑھی کے ہنگاموں میں چھٹی مل بھی نہ پاتی اور کام کرتے کرتے انہیں ایسی زور کی بھوک لگتی، کہ آنتیں الٹ الٹ کرمنہ کو آنے لگتیں اور گھر جاکر بھی کون سے ترتراتے پر اٹھے ، پلاؤ اور میٹھے ان کے استقبال کو موجود ہوتے۔ وہی کھٹی دال چاول جو انہیں شاید صدیوں سے ورثے میں ملا ہوا تھا۔

کلوا اس لحاظ سے بڑا خوش نصیب تھا کہ بڑے سرکار کے منہ چڑھا ہوا تھا۔۔ منہ چڑھا ان معنوں میں کہ ان کے بستر کا رازدار تھا۔ ایک سے ایک طرحدار چھوکری اس نے لاکر بڑے سرکار کے بستر پر "نون غنہ” بنا دی تھی۔۔ اوربڑے سرکار کو اس کی اس خوبی کا پتہ بھی نہ چلتا اگر ایک دن وہ اسے زنان خانے میں جاکر پان لانے کو نہ کہتے ۔ اب پاندان تو پر تو مشتری حکمران تھے ۔ جسے چاہے دے اور جسے چاہے دھتکار دے۔ اور ایسی حرافہ کہ کچھ پوچھو نہیں۔ اس لئے کلوا ڈرتے ڈرتے کان کھجاتا بولا:
"پاشا، پان لانے کا آپ حمید کو بولو نا۔۔۔”
"وہ کائے کو؟” نواب صاحب نے غصے سے کہا:
"تیرے ہاتھاں مہندی میں لپٹے کیا؟” اب کی بار کلوا کان اور سر دونوں کھجا کربولا۔
"نہیں پاشا ویسی بات نہیں۔ وہ مشتری ہے نا، انے۔۔” وہ چپ رہ گیا۔
"کیا کرتی مشتری ؟” بڑے سرکار چڑ کربولے ۔
"پاشا۔۔۔” وہ منمنا کربولا۔ "وہ نمبر ایک کی چھنال ہے۔ انے میرا ہاتھ لے کو اپنے سینے پر رکھ لیتی۔” پھر وہ بڑے معصوم لہجے میں شرما کر بولا:
"ہور پاشا مولبی صاحب بولے کہ شریف مرداں بس اپنی بیوی کے سینے کو ہاتھ لگانا، انے تو غیر ہوئی نا؟”
بڑے سرکار کو اس وقت نہ مولبی صاحب سے غرض تھی نہ ان کے وعظ سے۔۔ ان کے تصور میں جگمگاتی ہوئی مشتری گھوم رہی تھی، جو اتنی بے باک تھی اور کمبخت زنان خانے میں چاکری کر رہی تھی۔
پھر کلدار ایک۔۔۔ پورا ایک روپیہ یعنی آدھے مہینے کی تنخواہ پوری کلوا کے ہاتھ میں آ گئی۔ یعنی تنخواہ کے علاوہ، بدلے میں وہ مشتری کو پٹا کر مردانے تک رات کے اندھیرے میں لے آیا اور رات کے اندھیرے میں ہی تو چاند جگمگاتا ہے۔

بس اس کے بعد تو یہ معمول ہو گیا کہ کلوا بڑے سرکار کا مشیر خاص بن گیا۔ خانہ باغ سے لے کر معظم جاہی مارکیٹ سے لے کر، چارمینار کے اطراف سے لے کر، کوٹلہ عالی جاہ سے لے کر، میر عالم کی منڈی سے لے کر ، پنچھی براق سے لے کر محبوب کی مہندی تک ، کوئی جگہ ایسی نہ بچی جہاں کے پھیرے اس نے نہ مارے ہوں اور بڑے سرکار کی خدمت اقدس میں ہر رات ایک نیا چاند طلوع نہ کر دیا ہو۔۔۔
وقت اور بیوپار سلیقہ بھی سکھا دیتے ہیں۔ اب وہ محض ایک روپے کے عوض ایک چاند سپلائی نہ کرتا۔ کسی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دئیے تو دو سے لے کر پانچ روپے تک بھی بنا لئے۔ کبھی دس تک بھی نوبت پہنچی، کبھی کبھار اس سے بھی زیادہ لیکن رہا وہی ڈیوڑھی کا، باہر کا پوٹا۔ سارا پیسہ وہ اضلاع میں رہنے والے ماں باپ کو بھجوا دیتا ، جن کی حقیر سی زمین مستقل قرضوں میں پھنسی ہوئی تھی ۔ کھنا کلوا کا ابھی تک اس کے ذاتی گھر میں ہی ہوتا، جہاں اس کی بیوی کھٹی دال، موٹا چاول پکا کر اس کا راستہ دیکھتی ہوتی۔ لیکن بڑے سرکار کا مشیر خاص بننے کا ایک فائدہ ضرور ہوا تھا آئے دن اسے رات کے کھانے میں سے بچی ہوئی انواع و اقسام کی نعمتوں سے بھرا طشت یوں ہی مل جاتا ، بڑے سرکار تھے دل والے۔۔۔ شراب، کباب اڑانے کے بعد ویسے بھی انسان کو کتنی بھوک باقی رہ جاتی ہے ۔ جنت کی سی نعمتوں سے بھرا طشت خاص الخاص بڑے سرکار کے کمرے میں پہنچا دیا جاتا تھا۔ کیونکہ نشے کے مارے ان کے لئے اپنے آپ چلنا بھی دوبھر ہو جاتا۔ یوں ہی تھوڑا بہت ٹونگ کر کھلانے والے خادم سے کہتے:
"طشت واپس نکو لے جاؤ۔۔ انے کلو ابیٹھا ہے باہر، اس کو دے دیو۔ یہ جھوٹن اس کا اچ حصہ ہے۔۔”
کھلانے والا خادم اس عنایت پر جل بھن کر خاک ہو جاتا اور اپنے جی کی جلن مٹانے کے لئے باہر بیٹھے ہوئے کلوا اسے پکار کر کہتا۔۔
"یہ لے جھوٹن کھا کو برتن خالی کر کو جلدی سے دے دے میرے کو۔۔۔” وہ جھوٹن پر زیادہ زور دیتا۔
لیکن نعمتوں سے بھرے ہوئے خوان اسی صورت میں کلوا کو ملتے تھے جب بڑے سرکار کہیں مدعو نہ ہوتے، جس دن وہ کہیں دعوت پر تشریف لے جاتے یا جس دن ان کی طبیعت سست ہوتی اور وہ زنان خانے میں کہلوا دیتے کہ آج کھانا نہ بھجوایا جائے تو کلوا کی میت اٹھ جاتی۔ دن بھر کا بھوکا پیاسا، نہ ہاتھوں میں دم، نہ انگلیوں میں جان، بس یوں ہی ہل ہل کر برائے نام پاؤں دبائے جاتا۔ اس طرح کہ بڑے سرکار کے پیروں پر تو کم وزن پڑتا اور کلوا خود اپنے جسم کو زیادہ جھکولے دیتا رہتا اور اسی جھکولے میں غصے سے بھرے ہوئے سرکار کی ایک آدھ لات ایسی کراری پڑتی کہ کلوا مسہری سے دھپ سے نیچے جا گرتا، دوبارہ اپ نے آپ کو سمیٹتا اور پائینتی پر چڑھ جاتا۔

ایسی ہی لات اس کے آج پڑی تھی ، مگر آج جو سرکار نے اس کے لات ماری تو اس میں پاؤں اچھی طرح نہ دبانے کی سزا کم اور کوئی اچھی سی لڑکی نہ ڈھونڈ لانے کی سزا زیادہ تھی ۔ اتنے دنوں سے مسلسل یہ ہو رہا تھا کہ روز ایک نئی لڑکی آتی۔ مگر اتنی بہت سی نئی لڑکیاں آخر آئیں کہاں سے؟ حیدرآباد دکن کا ایک بڑا مشہور سبزی ترکاری کا بازار تھا جسے عرف عام میں "میر عالم کی منڈی” کہتے تھے ۔ لڑکیوں کی بھی ایسی ہی کوئی منڈی ہوتی تو کیا بات تھی ۔ بس گئے، پیسے دئیے اور بیل گاڑی بھر لڑکیاں تلوا کر لے آئے۔ لیکن لڑکیاں تو جناب ڈھونڈ ڈھانڈ کر حیلے بہانوں سے ، روپے، پیسوں کا لالچ دے کر ہی لائی جا سکتی تھیں اور وہ بھی ایسی صورت میں جب ان کا وجود ہو۔ جتنے پتے ٹھکانے معلوم تھے ، وہاں کی خوبصورتیاں بستر کی زینت بنائی جا چکی تھیں۔ اور ادھر نواب صاحب کا جسم ٹوٹا جا رہا تھا۔ ناگنوں سے ڈسوانے کی ایسی لت لگ چکی تھی کہ گھر کی بیوی اب پھس پھسی معلوم ہونے لگی تھی، ویسے بھی وہ اس طرح سوچتے تھے:
"دنیا کو آنے کا عجیب و غریب دستور ہے، کپڑا پرانا ہوتا ، دل سے اترتا ، آپ کسی کو بھی دے دیتے، کوئی کچھ نئی بولتا، جوانی پرانی ہو گئی،آپ پھینک دیتے یا دوسری خرید لیتے، کوئی کچھ نئیں بولتا، ایکچ کھانا کھائے کھاتے آپ کا دل بھر جاتا آپ بول کو دوسری ہانڈی پکوا کر کھا لیتے ، کوئی کچھ نئیں بولتا ، ہور تو ہور میں سال کے سال ہاتھ کی گھڑی بدل دیتا، کوئی کچھ نئیں بولتا۔۔ پن آپ ذرا بیوی سے اکتا جاتے ہور چھوکری باندی سے دل بہلانا چاہتے تو ساری دنیا ناماں رکھتی۔ یہ دنیا بڑی عجیب و غریب ہے ۔۔”
اور اس عجیب و غریب دنیا کا چلن بدلنے اور نئی ریت قائم کرنے کے لئے ہی وہ روز ایک نئی تبدیلی کے خواہاں تھے ۔
اور آج کے غصہ کی وجہ ہی یہ تھی کہ سرکار کا حکم تھا کوئی نوی چیز ہونا۔
پاؤں ذرا سمیٹ کر نواب صاحب نے ذرا نرمی سے پھر بات شروع کی۔
"ہو رے تو روپے پیسے کے مارے تو پیچھے نئیں ہٹ ریا؟”
اونگھتا ہوا کلوا ایک دم چوکنا ہو گیا، وہ کاروبار میں منجھ چکا تھا ، سمجھ گیا، چوٹ لگانے کا وقت اور موقع یہی ہے ۔ بظاہر بے پروائی سے بولا:
"جی ہو، پاشا آپ سچی سمجھے، مگر میں آپ سے اس واسطے نئیں بولا کہ آپ نئیں تو سمجھتے کہ میں اچ خرد برد کر ریا۔۔۔” پھر ذرا رک کر کہنے لگا۔۔ "پاشا اس کی ماں پچیس روپے کلدار مانگ رئی تھی۔”
بڑے سرکار ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئے :
"پچیس روپے؟ ایسی کون سی کوہ خاف کی پری ہے انے؟”
کلوا پرچانے کی انداز سے بولا۔ "جی ہو پاشا۔۔ کوہ خاف کی پری اچ ہے انے، نئیں پری ویسی نکلی تو کلیم الدین سے پلٹ کر میرا نام کلوا رکھ دینا۔”
پھر ذرا آگے جھک کر ادھر ادھر دیکھ کر بے حد رازداری سے بولا۔۔
"پاشا، کبھی لال مٹی کا کورا برتن دیکھے آپ؟ پانی پڑتے اچ کیسا سن سے بولتا۔ بس ایسا اچ کورا برتن سمجھ لیو پاشا۔۔ سن، سن۔۔۔”
کچھ ایسے انداز سے کم بخت نے نقشہ کھینچا ، بڑے سرکار کی رگ رگ سن سن کرنے لگی، تڑپ کر کھڑے ہو گئے ، اچکن کی جیب سے کھن کھن کر پچیس روپے نکالے اور کلوا کی طرف اچھال کر بولے:
"جاکو بس ابی ابی لے کو آجا وہ چھوکری کو۔۔۔”
کلوا روپے دونوں مٹھیوں میں دبا کر تیزی سے نکلا اور برق رفتاری سے بھاگتا ہوا اپنے گھر پہنچ گیا۔
"سکو۔۔۔ اگے او سکو، کاں مر گئی؟”
حواس باختہ سکینہ سامنے کے دالان میں نکل آئی۔۔
"کائے کو اتا چلائے رئیں۔۔”
"اگے کھانا کھائیں گی؟ مرغا، بریانی ، ڈبل کا مٹھا، دہی کی چٹنی، کش مش والے نان۔۔۔”
"چچ ، چچ، چچ۔۔” سکینہ افسوس سے بولی۔
"بھوک کے مارے سچ مچ بھی تمے پاگل دیوانے بن گئے۔ پن میں بھی کیا کروں، آج تو دال چاول کو بھی پیسے نئیں تھے ،فاخہ اچ سمجھو۔۔۔”
"اگے فاخہ نئیں، دعوت بول، دعوت، دیکھ یہ روپے۔” اور اس نے روپے دالان میں اچھال دئیے ۔
سکینہ پاگلوں کی طرح روپیوں پر لپکنے لگی۔ ایک دم کلوا اسے دونوں ہاتھوں میں سنبھال کر کہنے لگا۔۔۔
"بس پہلے ایک چھوٹا سا کام کر دے میرا، پھر یہ سارے روپے اپنے سال بھر کو پورے پڑ جاتے اتے تو۔۔۔”
"کیا کام ہے؟ جلدی بولو نا۔۔” سکینہ خوشی سے پاگل ہوتے ہوئے بولی۔

کلوا نے محراب میں ٹھونسے ہوئے کپڑوں میں جھٹ سے ایک ململ کا سفید کرتا نکالا اور اپنے ہاتھوں سے سکینہ کے جسم پر سے میلا کرتا گھسیٹ کر اتارنا شروع کر دیا۔ وہ چلائی بھی۔۔۔
"اگے اگے ، یہ کیا کرتے جی تمے؟ بے شرم کدھر کے، کیامیرے کو کپڑا پہننانئیں آتا؟۔۔۔”
لیکن اتنی دیر میں کلوا اس کاکرتا اتار، قدرت کی صناعی کی داد دینے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔
"سکو۔۔۔ تو مال ہے، سچی تو مال ہے۔۔ تو پچیس روپے کے اچ لائخ ہے ، چل جلدی کر۔۔۔”
پھر اس نے مبہوت کھڑی سکو کو اپنے ہی ہاتھوں کرتا پہنایا، دوپٹہ اڑھایا، اورگھسیٹتا ہوا لے چلا۔

بڑے سرکار کی جو نظر اٹھی تو اٹھی ہی رہ گئی۔۔۔ غریبی جب ململ کا کرتا کسی غریب کو پہنا دیتی ہے تو نوابوں کو بھکاری بنا دیتی ہے۔ بڑے سرکار ایک بھکاری کی طرح اسے تکے جا رہے تھے۔ گریبان تک جو بٹنس پٹی لگی ہوئی تھی اس میں ہلکی سی گلٹ کی زنجیر میں بجنے والے بٹن جگمگا رہے تھے۔ اور زنجیر اور بٹن کے دائیں اور بائیں گلابی کٹوریوں میں جیسے کھیر بھری رکھی تھی ، جسے چاٹنے کے لئے بڑے سرکار بے قرار ہوئے جا رہے تھے۔ انہوں نے فاقہ زدوں کے انداز سے کلوا سے مڑ کر کہا:
"پچیس روپے تو بہوت بھی بہوت کم بولا تمہارے تو۔۔ پچیس روپے تو فخط اس پو سے وار کو پھینک دینا میں۔”

روتی دھوتی سکینہ باہرنکلی تو کلوا وہیں جھاڑیوں میں دبکا بیٹھا تھا۔اسے دیکھ کر وہ تیزی سے اٹھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھگاتے ہوئے ڈیوڑھی سے باہر لے آیا۔ ایک ہاتھ سے رکشا روک کر اس نے نامپلی اسٹیشن کے ایک بڑے سے ہوٹل کا پتہ دیا، جو رات گئے تک کھلا رہتا تھا۔ کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے مرغی، بریانی، میٹھے، دہی کی چٹنی، نان، ایک سے ایک بڑھیا چیز کا آرڈر دے ڈالا۔ بیرا ایک ایک چیز لاکر چنتا گیا۔ اب پہلی بار اس نے نظریں چرا کر سکینہ کی طرف دیکھا۔
"رونے کو ساری رات پڑی ہے، بلکہ ساری زندگی پڑی ہے گے ۔ ذرا سن پہلے پیٹ بھر کر کھانا تو کھا لے ۔ تیری اچ تو کمائی ہے۔”
سکینہ نے پہلے تو اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ پھر پاس پڑا ہوا چمچہ اٹھا کر تڑاتڑ زور زور سے اس کے سر پر مارنا شروع کیا۔
"اگے اگے۔۔۔ یہ کیا کرتی ہے؟ اگے دیکھنا تو کب سے مرغے کی خوشبو بھی نئیں سونگھی ہوئیں گی۔ بریانی کا مزہ کیسا ہوتا، یہ بھی تیرے کو یاد نئیں ریا ہوئیں گا۔۔۔ پر اب دیکھنا۔ دیکھ دیکھ! کیا بہوت سا کتا مزے دار کھانا ہے۔ تو بھی تو صبو سے بھوکی اچ تھی نا؟”

چمچہ چھوڑ کر سکینہ نے کھانے کی طرف دیکھا اور اس کی بھوک اسے ڈسنے لگی۔ اس نے دیوانوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے منہ میں بیک وقت کئی کئی چیزیں ٹھونسنی شروع کر دیں۔
کلوا کا پروگرام سوچا سمجھا تھا۔ سال بھر کی تنخواہ ایک ہی ساتھ مل گئی تھی ، بیوی کی عزت گئی اس کا اسے دکھ ضرور تھا۔ لیکن سوکھے پیٹ نے اسے جواز بھی سمجھا دیا تھا۔
"اتے زمانے سے میرے ساتھ سوتی تھی، بس ایک رات بڑے سرکار کے ساتھ سو گئی تو کون ہیرے موتی جھڑ گئے۔۔بات تو ایک اچ ہوئی۔ سرکار کے ساتھ سونے سے کم سے کم سال بھر کی تنخواہ ایک ساتھ تو مل گئی۔”
اب اس نے یہ سوچا تھا کہ چپکے سے نکل کر سکینہ کو ساتھ لے کر ماں باپ کے پاس اضلاع میں چلا جائے گا اور باقی زندگی کھیتی کے کام کاج میں چین اور عزت سے گزارے گا۔ روز روز کی لاتیں اب اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھیں۔

دو دن تیاری میں نکل گئے ۔ ان دو دنوں میں وہ ڈیوڑھی ہی نہیں گیا، اور جانے کی اب ضرورت بھی کیا تھی؟ اپنے حسابوں تو اس نے نوکری چھوڑ دی تھی۔ لیکن ادھر جو نواب صاحب کو پہلی دھار کی طرح چڑھ گئی تھی۔ وہ لڑکی اترنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ دو دن تو اسی انتظار میں نکل گئے کہ کلوا آئے تو پھر اسی کوری لال مٹی کی صراحی کو بلوائیں، مگر جب کلوا پلٹا ہی نہیں، بڑے سرکار خود ہی شکرم لگوا کر اس کے گھر پہونچ گئے۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے دو دن سے کلوا نہیں آیا تو وہ خیریت پوچھنے آئے ہیں۔
کلوا اس وقت کسی کام سے بازار گیا ہوا تھا ، گھر میں صرف سکینہ تھی۔۔ نواب اقتدار یار جنگ کا کلوا ایسی حقیر فقیر کی مڑگی (جھونپڑی) تک آ جانا ایسی کوئی معمولی بات تو تھی نہیں، سارے محلے میں شور مچ گیا۔
"اگے ایک بہوت بھی بہوت خوبصورت بڑی بھاری شکرم آئی تھی۔۔ کوئی نواب صاحب آئے گئے۔”
سکینہ بھی تیزی سے باہر نکلی۔ نواب صاحب سے اس کی آنکھیں چار ہوئیں۔۔ نواب صاحب کا دل اچھل کر سینے سے باہر نکلنے لگا۔ جس کے لئے وہ یو ں تڑپ رہے تھے وہ اس قدر آسانی سے مل جائے گی ، اس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔ مگر رعب داب قائم رکھنے کی خاطر پوچھا۔۔
"کلوا کا گھر کون سا ہے؟”
"یہی اچ ہے سرکار۔” کئی آدمی ایک ساتھ بولے ۔
"تو اس کے گھر یہ چھوکری کون کھڑی؟”
"یہ۔۔۔۔؟ انے تو اس کی مکان والی (بیوی) ہوتی سرکار!”
نواب صاحب کبھی سکینہ کو دیکھتے، کبھی محلے والوں کو۔ دل میں غصہ کا ابال سا اٹھا۔
"تو اس نے، حرام زادہ ، سور کا جنا، ہم کو دھوکا دیا، پورے پچیس روپے کا دھوکا۔۔۔”

"اچھا بچہ جی۔۔” وہ سکینہ سے مخاطب ہوکر بولے ۔۔ "یہ ہمارا چاؤش تمہارے گھر پو بیٹھا رہے گا۔ کلوا آئے تو اس کو فوراً ڈیوڑھی پو بھیج دیو۔”

کلوا ہید مجنوں کی طرح کانپ رہا تھا، جب زپا زپ بید پر بید پڑ رہے ہوں تو اچھے اچھے بھی بید مجنوں کی طرح کانپنے لگتے ہیں۔۔ اور وہ تو تھا ہی قمچی کی طرح۔
"کیوں بے حرام کی اولاد ۔۔۔ جب اپنے گھر کی آپس کی اچ بات تھی تو تو میرے سے روپے کیوں لیا؟ اتنی خوبصورت تیری بیوی تھی تو تیرا کام نئیں تھا کہ ویساچ لا کر پیش کر دیتا۔ کیا میرا نمک نئیں کھاتا تھا تو؟”
کلوا کچھ نہ بولا۔
"اب تیری سزا یہ ہے کہ وہ روپے میرے کو واپس کر، ہور سزا کے طور پر ایک مہینہ روزانہ اپنی بیوی کو میرے پاس بھجوا۔”
کلوا کچھ نہ بولا۔
"ہور سن۔۔ تیری اک سزا یہ بھی ہے کہ جب ہم ہور تیری جورو اندر رہیں تو تو دروازے پو ہی بیٹھا رہو۔۔ پھر تیرا جی تو جلنا کی اندر تیزی جورو کا کیا حشر ہو ریا۔”
کلوا کچھ نہ بولا۔
پھر سرکار نے کھانا کھلانے والے خادم کو بلا کر زور دار الفاظ میں تنبیہ کی:
"اب سے ہماری جھوٹن اس حرامزادے کو نکو دیتے جاؤ۔ بہوت حرام خور ہے انے۔۔ کھا کھا کو مستی چڑھ گئی اس کو۔۔۔”
خوف کی زیادتی کبھی کبھار انسان کو بےخوف بنا دیتی ہے ۔ اب کلوا پہلی بار بولا:
"ہو۔۔ آج سے میں اچ سرکار کی جھوٹن نئیں کھاؤں گا۔۔ کیونکہ اب تو سرکار میری جھوٹن کھارئے۔۔”

بڑے سرکار کے ہاتھ سے بید چھوٹ کر ان کے اپنے پیروں پر آ پڑا۔۔

ماخوذ
واجدہ تبسم کے شاہکار افسانے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم