28 نومبر, 2019

    کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

    ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
    15 نومبر, 2020

    ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے

    اردو غزل از بشیر بدر
    27 جون, 2020

    ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جنوری, 2020

    آ جائے کسی دِن، تُو ایسا بھی نہیں لگتا

    ایک اردو غزل از قتیل شفائی
    24 مئی, 2020

    آپ کے در پہ بہت دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں

    ایوب خاور کی اردو غزل
    19 اکتوبر, 2025

    وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    6 ستمبر, 2025

    ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    2 جون, 2026

    خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے

    میثم علی آغا کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    مستی کے پھر آ گئے زمانے

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    22 نومبر, 2022

    کم سے کم ساتھ چل رہا ہے وہ

    ایک غزل از شہلا خان یوسف زئی
    29 نومبر, 2019

    تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2025

    کہیں امید سی ہے دل کے

    احمد مشتاق کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    ختم ہر اچھا بُرا ہو جائے گا

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button