8 جنوری, 2020

    نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    17 مارچ, 2026

    یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من

    اکرام عارفی کی ایک اردو غزل
    8 اگست, 2018

    پائے غیر اور میرا سر دیکھو

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    30 دسمبر, 2019

    سفر میں دھوپ رہی سائبان ہوتے ہوئے

    ایک اردو غزل ندیم بھابھہ
    27 جون, 2020

    ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 نومبر, 2020

    کیوں اُسی شخص سے ملنے کا بہانہ چاہوں

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    چشمِ تر سے پھسل نہیں سکتی

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    15 اپریل, 2020

    اگر قیامِ مسلسل میں وہ ستارا ہے

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    27 دسمبر, 2021

    میں بِرہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں

    ایک اردو غزل از حمیدہ شاہین
    19 فروری, 2026

    موت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی

    زین محکم کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    پوچھا نہ جائے گا جو

    امیر مینائی کی اردو غزل
    14 جنوری, 2021

    اپنی دہلیز پہ گلدان برابر رکھے

    ایک اردو غزل از ساحل سلہری
    3 جنوری, 2020

    ہے ایک ہی جلوہ

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی
    9 جون, 2020

    شعاعِ فردا

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    12 جون, 2024

    ہے کس کی منتظر یہ

    ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button