30 اکتوبر, 2020

    آج بھی آپ گئے ملنے اس کے گھر

    علامہ طالب جوہری کی اردو غزل
    5 دسمبر, 2019

    بجھ گئی آگ ‘ سو میں اپنی تن آسانی کو

    ایک غزل از شہزاد نیّرؔ
    9 جون, 2020

    ہم آج کہتے ہیں

    راز احتشام کی ایک اردو غزل
    14 جنوری, 2020

    رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ

    رحمان فارس کی ایک غزل
    8 مئی, 2020

    موسمِ ہجر کے آزار بڑھائے گریہ

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    بات کو جرم ناسزا سمجھے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 اپریل, 2020

    سیاہ افق سے پرے شام دوں محبت میں

    حسیب بشر کی ایک غزل
    5 اپریل, 2020

    ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    حسابِ ترکِ تعلق تمام

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    30 دسمبر, 2019

    ایک ذرہ بھی نہ مل پائے

    شعیب بن عزیز کی ایک اردو غزل
    16 اکتوبر, 2025

    متاعِ ہجر کو ضائع نہیں ، مفید کیا

    اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    اک جھلک اُس کفِ حنائی کی

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    31 مئی, 2024

    کیسے رہیں نہ لوگ یہاں

    ثبین سیف کی ایک غزل
    17 جون, 2020

    ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    19 مئی, 2020

    جب سے تشنہ اُس دہلیز سے پلٹی ہیں

    ایک اردو غزل از ناصر ملک

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button