3 نومبر, 2021

    تم جان اگر ہو تو رگ جاں بھی تم ہی ہو

    ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر
    27 نومبر, 2019

    مرے بس میں یا تو یارب

    امیر مینائی کی اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    پرانے وقت کی پرچھائی دیکھ لی میں نے

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2026

    کیا کیا دئے فریب ہر اک اعتبار نے

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    رنگ بدلا یار کا

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    28 جنوری, 2020

    سچ کے بدلے میں کیا ملا ہو گا

    افتخار شاہد کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    ریشم و اطلس و کم خواب، نہ زر مانگتے ہیں

    ایوب خاور کی اردو غزل
    22 جون, 2020

    ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    26 نومبر, 2025

    بزمِ طرب میں بادہ و ساغر

    کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل
    10 مئی, 2020

    میں اپنے آپ کو روکوں کہاں تک

    نیل احمد کی ایک اردو غزل
    20 فروری, 2026

    دل کی آنکھوں سے

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    11 نومبر, 2025

    یہ جو ہو جانے کے احساس سے

    علی کوثر کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    بہتوں کو آگے تھا یہی آزار عشق کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 ستمبر, 2019

    اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

    ادا جعفری کی ایک غزل
    19 مئی, 2020

    بھلے غموں سے نڈھال بھی تھا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button