-
آپ کا سلام

یہ کس کہانی کا کردار ہو گیا ہوں میں
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

نہیں, آوارگی قبول نہیں
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

میرے دامن پہ عجب داغ لگا کر سائیاں
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

جا تجھے دل ربا معاف کیا
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

کھا گئی ہے تری کمی مجھ کو
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

بے وفا روبرو تجھے دیکھوں
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

آنکھ ہے پر عجب تماشا ہے
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

اس سے پہلے ترے کوچے میں تماشا ہوتا
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

سیاہ افق سے پرے شام دوں محبت میں
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

پس موت کا امکاں ہے کرونا کے سبب سے
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

گھر کہاں ہے مجھے سمجھنے کو
حسیب بشر کی ایک غزل
-
آپ کا سلام

حُسن کا یہ کمال ہے سائیں
حسیب بشر کی ایک غزل


