آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم احسان بٹ

بزمِ طرب میں بادہ و ساغر

کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل

بزمِ طرب میں بادہ و ساغر پڑا ہوا
آنکھوں میں ایک رہ گیا منظر پڑا ہوا

جیسے زمیں نے کھینچ لی دیوار زیر پا
جیسے ہو آسمان بھی سر پر پڑا ہوا

حیرت کدے میں آنے سے پہلے میں کون تھا
پتھر سے پوچھتا تھا یہ پتھر پڑا ہوا

میرے گلے میں طوق و رسن ہیں پڑے ہوئے
اُس کے گلے میں رشتۂ گوہر پڑا ہوا

وہ بھی خیال و خواب ہی جیسا لگا ہمیں
جو تھا خیال و خواب سے باہر پڑا ہوا

کلیم احسان بٹ

post bar salamurdu

کلیم احسان بٹ

کلیم احسان بٹ جلا لپور جٹاں ضلع گجرات میں 5 دسمبر 1964 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام احسان اللہ بٹ تھا۔ آپ نے اپتدائی تعلیم جلال پور جٹاں میں حاصل کی۔ ایم اے گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات سے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آپ کی اب تک سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے تین شاعری کی ہیں۔ تفصیل حسب ذیل ہے 1۔گجرات میں اردو شاعری۔گجرات کی 444سالہ علمی و ادبی تاریخ 2۔ موسم گل حیران کھڑا ہے شاعری 3۔ ابر رحمت جلد اول تحقیق 4۔ ابر رحمت جلد دوم تحقیق 5۔ چلو جگنو پکڑتے ہیں شاعری 6۔ تفہیم و تحسین تنقیدی مضامین 7۔ حیرت باقی رہ جاتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button