30 مئی, 2020

    پھولوں کی اور چاند ستاروں کی کیا کمی

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    24 مئی, 2020

    جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    3 اپریل, 2026

    ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں

    ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں کہیں پر مگر تم ظرف دیکھو تو نہ آئے بل جبیں پر…
    30 جنوری, 2020

    ہر جذبۂ غم کی تلخی میں

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    27 مئی, 2020

    درونِ خواب نیا اک جہاں ، نِکلتا ہے

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    10 دسمبر, 2025

    کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانا ہے

    ایک اردو غزل از عُظمی جٙون
    24 جنوری, 2020

    رشتۂ جسم و جاں بھی ہوتا ہے

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی
    22 جون, 2020

    ناز اٹھاتا پھرے ہے کس کس کا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    ﻣﯿﺎﻥ_ ﻻﻟﮧ ﻭ ﮔﻞ ﺳﺮﺥ ﺭﻭ ﻋﻼﺣﺪﮦ ہے

    ڈاکٹر وحید احمد کی ایک غزل
    20 دسمبر, 2022

    خزاں کے دور میں کِھلتی بہار میرے لیے

    عاصمہ فراز کی اردو غزل
    25 اپریل, 2020

    آگئی ساعتِ دیدار، علیؑ آتے ہیں

    عارف امام کی اردو غزل
    27 اپریل, 2025

    آنکھوں نے حال کہہ دیا

    ایک غزل از حکیم ناصر
    22 فروری, 2020

    وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    6 جولائی, 2025

    وفائیں، پیار، محبت

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    5 اگست, 2025

    کہانی کا کوئی منظر

    ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button