25 جون, 2020

    یہ میر ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

    احمد خیال کی اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    غمِ شکوہ حال تک نہ آیا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    11 اکتوبر, 2025

    ہوا کے دوش پہ خوابوں کا در کُھلا رکھنا

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    23 جون, 2020

    کس نے کھینچی حیات کی تصویر

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2026

    نظروں سے بصیرت کی نہاں

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    8 جون, 2020

    شکست

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    5 جنوری, 2026

    سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    17 فروری, 2026

    یقیناً کچھ بڑے عشاق کے

    لطیف ساجد کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2020

    چراغ بام تو ہو، شمع انتظار تو ہو

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    31 مئی, 2024

    یہ دن بھی دیکھنا تھا

    ریحانہ روحی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    غم کا باب وا ہوا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2022

    حسن ہمہ تن گوش ہے

    ایک اردو غزل ندیم بھابھہ
    19 مئی, 2020

    لب بستہ ہی رہا میں مگر کچھ سنا تو تھا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button