23 اگست, 2020

    بےسبب ہوتی نہیں افسردگی

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    20 مئی, 2020

    سب کو ادراکِ زیاں گِر کے سنبھلنے سے ہُوا

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    13 جون, 2020

    آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    25 جون, 2020

    نظر میں طور رکھ اس کم نما کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جون, 2020

    بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    23 جنوری, 2020

    یوں تو شیرازۂ جاں کر کے بہم اٹھتے ہیں

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    خالی ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    عبدالحمید عدم کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2024

    مجھے یہ بتاؤ زنداں یہاں

    سید محمد وقیع کی ایک غزل
    8 نومبر, 2020

    کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہو گی

    اردو غزل از بشیر بدر
    6 جولائی, 2025

    تمھارے ساتھ وہ گزرا ہوا

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    کروں شکوہ تو بے وسواس

    میر حسن کی اردو غزل
    20 جون, 2025

    وہ دیکھتا ہے مجھ کو مگر بے حیا نہیں

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    23 جون, 2025

    اب کسی اور کا وہ

    ایک اردو غزل از سعد ضیغم
    6 نومبر, 2020

    شعورِ ذات سے اُبھرو مقامِ ذات کو پاؤ

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    2 اپریل, 2020

    جدھر کھڑا تھا، نہیں ہوں اُدھر، کدھر گیا میں؟

    عمیر نجمی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button