3 اپریل, 2026

    یہ مصلحت کے ڈھکوسلے

    ماوٰی سلطان کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    ترے دل میں بھی ہیں

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    23 نومبر, 2019

    کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    میں چھوٹی سی لڑکی بہت ہی بڑی ہوں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    14 جون, 2020

    نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    31 مئی, 2024

    ہم نے پایا گمان سے بڑھ کر

    نصرت جعفری کی ایک غزل
    27 نومبر, 2019

    پُرسِش کو مری کون مرے گھر نہیں آتا

    امیر مینائی کی اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    تعریف سُخن کی

    میر حسن کی اردو غزل
    28 جون, 2020

    کیا خور ہو طرف یار کے روشن گہری سے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 فروری, 2026

    اب یہ عالم ہے ! بات کرنے کو

    زین محکم کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    خط سے وہ زور صفاے حسن اب کم ہو گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 اپریل, 2020

    کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    ہانی مرے خلاف ہے، چاکر مرے خلاف

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    بتوں سے آنکھ کیوں میں نے لڑائی

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button