- Advertisement -

زباں بندی کروں میں کس لئے تذلیل کے ڈر سے

ایک اردو غزل از ایوب صابر

زباں بندی کروں میں کس لئے تذلیل کے ڈر سے
میں گھر میں قید ہو جاؤں تری تحویل کے ڈر سے

اجالے کی حکومت تو سدا بے خوف رہتی ہے
اندھیرا منہ چھپاتا ہے کسی قندیل کے ڈر سے

تمھارے دل کے چوری نے تمھیں خاموش رکھا ہے
سبھی چُپ چاپ بیٹھے ہیں کسی تفصیل کے ڈر سے

ادھورے پن کو اپنی ذات سے باہر نکالا ہے
مرا دشمن ہراساں ہے میری تکمیل کے ڈر سے

بلندی پر پہنچ کر ہی وہ کھو دے گا وجود اپنا
دھواں آنسو بہاتا جا رہا تحلیل کے ڈر سے

جسے سینے لگاتا ہوں وہ اندر جھانکنا چاہے
گلے ملتا نہیں اب راز کی ترسیل کے ڈر سے

زمیں زادی کی آنکھوں میں یہ کتنا خوف ہے صابرؔ
کبھی قابیل کے ڈر سے کبھی ہابیل کے ڈر سے

ایوب صابر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ایوب صابر