20 ستمبر, 2020

    اُس نگاہِ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی

    اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    راستے میں نہ آ شجر کی طرح

    لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2025

    نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    حسابِ ترکِ تعلق تمام

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    6 جنوری, 2020

    بس اک رستہ ہے

    ایک اردو غزل از سلیم کوثر
    26 جون, 2020

    فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جون, 2020

    جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    فلم “ہجرت” کا تھیم ہیں ہم لوگ

    بہنام احمد کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    ایسی بھی کیا جلدی پیارے جانے ملیں پھر یا نہ ملیں ہم

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    26 جون, 2020

    عشق میں اے طبیب ہاں ٹک سوچ

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 مئی, 2020

    روشنی میں گواہ کرتا ہے

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    6 دسمبر, 2025

    کی بہاروں سے خزاں نے

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    26 جون, 2020

    جھوٹ ہر چند نہیں یار کی گفتار کے بیچ

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 اکتوبر, 2025

    آؤ

    ایک اردو نظم از نجمہ منصور
    12 اکتوبر, 2025

    نہ زمیں پر نہ آسمان میں ہے

    نسیم شاہانہ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button