23 مئی, 2020

    اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    8 مئی, 2022

    اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

    راکب مختار کی ایک اردو غزل
    24 جون, 2020

    ناروا کہیے ناسزا کہیے

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    لب کشا شہرِ ملامت ہے چلو پوچھتے ہیں

    سعید خان کی اردو غزل
    29 مئی, 2024

    مجھے یہ بتاؤ زنداں یہاں

    سید محمد وقیع کی ایک غزل
    3 دسمبر, 2019

    میں کیا ہوں اس خیال سے

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    دل کے چرخے پہ سُوت سانسوں کا

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    18 جون, 2020

    غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    23 مارچ, 2025

    آنکھوں سے میری خواب کے

    ایک غزل از ایمان ندیم ملک
    20 جون, 2020

    تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    19 دسمبر, 2019

    آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    27 جون, 2020

    عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 جنوری, 2020

    کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے

    سلیم کوثر کی ایک اردو غزل
    4 مارچ, 2020

    اتنی شدت سے چاہتے ہو کیا

    جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل
    8 اپریل, 2020

    ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوں

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button