آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

کامیاب خارجہ پالیسی

شاہد نسیم چوہدری کا ایک اردو کالم

shahid naseem chaudhry

★کامیاب خارجہ پالیسی وہ ہے جو قوم کے وقار کو دنیا بھر میں بلند کرے ★ کل جو لوگ شہباز شریف کو سترہ کلومیٹر کا وزیر اعظم کہتے تھے، آج نظریں جھکائے پھرتے ہیں ★ حرمین شریفین کی حفاظت کا اعزاز پاکستان کے حصے میں آنا کامیابی کی معراج ہے ★ آذربائیجان کی گلیوں میں "دل دل پاکستان” کے نغمے گونج رہے ہیں ★ ایران "تشکر پاکستان” اور سعودی عرب "انا الباکستان ما فی خوف” گا رہا ہے ★ گلوبل ساؤتھ حقیقت بن رہا ہے اور پاکستان اس کا سب سے اہم کھلاڑی ہے ★ شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی کیمسٹری نے پاکستان کو نئی عالمی حیثیت عطا کی ★ امریکہ کی جنگ بندی کی درخواست قبول کر کے پاکستان نے وہائٹ ہاؤس میں اثر رسوخ قائم کر لیا ★ دنیا ہمیں بھکاری کہتی تھی، آج دفاعی اور معاشی طاقت مان رہی ہے ★ پاکستان اب صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی طور پر بھی اڑان بھرنے جا رہا ہے۔

ویلڈن شہباز اینڈ عاصم۔کامیاب خارجہ پالیسی اور کیا ہوتی ہے؟

دنیا کے سیاسی منظرنامے پر بعض اوقات ایسے ادوار آتے ہیں جو تاریخ بدل دیتے ہیں۔ ان دنوں پاکستان اسی طرح کے ایک دور سے گزر رہا ہے۔ چند سال پہلے تک یہ ملک عالمی برادری میں مایوسی، بے بسی اور کمزور سفارت کاری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ دنیا ہمیں بھکاری کہہ کر پکارتی تھی، ہماری معیشت دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑی تھی، اور ہماری خارجہ پالیسی محض امداد کے لیےpak saudia دستِ سوال دراز کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ مگر آج دنیا کا نقشہ بدل چکا ہے۔ آج ایران کے گلی کوچوں میں "تشکر پاکستان” کے ترانے گائے جا رہے ہیں، سعودی عرب کی فضا "انا الباکستان ما فی خوف” کی گونج سے معمور ہے، چین کی سترہ سالہ تقریبات میں پاکستان خصوصی مہمان کی حیثیت سے شریک ہے، اور آذربائیجان کی گلیوں میں "دل دل پاکستان” کے نغمے سنائی دے رہے ہیں۔
یہ ہے کامیاب خارجہ پالیسی کی اصل تصویر۔
مایوسی سے امید تک کا سفر
یہ وقت زیادہ پرانا نہیں۔ صرف دو تین سال پہلے ہم سب مایوس تھے۔ ملک بھکاری بن چکا تھا، دنیا میں عزت اور وقار کھو چکا تھا۔ عوام سمجھتے تھے کہ شاید ہماری زندگی میں پاکستان کبھی دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی شان حاصل نہ کر سکے گا۔ پھر اچانک وقت بدلا۔ تاریخ کا جبر ایسا آیا کہ جس مودی کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا، جسے یقین تھا کہ پاکستان کے جہازوں میں پٹرول بھی نہیں، اسی نے تکبر کے نشے میں پاکستان پر حملہ کر کے ہمیں جگا دیا۔مودی کی اس "خارش” نے پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں سے ہم نے اپنے وقار کی بازیابی کی شروعات کی۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید ہم بدستور مایوسی کی دلدل میں پھنسے رہتے۔ تاریخ کے اس موڑ پر مودی کا شکر ادا کرنا پڑتا ہے کہ اس نے ہمیں جگایا، ہماری غیرت کو للکارا اور ہماری قوم کو متحد کر دیا۔
قیادت کی کیمسٹری: شہباز شریف اور عاصم منیر
دنیا میں کوئی بھی کامیاب خارجہ پالیسی اندرونی سیاسی و عسکری ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ پاکستان کی حالیہ کامیابیوں میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شاندار کیمسٹری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کل جو لوگ شہباز شریف کو "سترہ کلومیٹر کا وزیر اعظم” کہہ کر طنز کرتے تھے، آج وہی لوگ شرم کے مارے سنگلیاں دانتوں میں دبائے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔شہباز شریف نے اپنی انتظامی صلاحیت اور سفارتی بصیرت سے دنیا کو قائل کیا کہ پاکستان اب محض امداد لینے والا نہیں بلکہ پالیسی دینے والا ملک ہے۔ دوسری طرف جنرل عاصم منیر نے میدانِ جنگ اور سفارت کاری دونوں میں وہ مہارت دکھائی جس نے پاکستان کو نئی عالمی حیثیت عطا کی۔ دونوں شخصیات کی ہم آہنگی نے ملک کو نہ صرف جنگ جتوانے میں مدد دی بلکہ امن کے قیام میں بھی عالمی قوتوں کو اپنی بات منوانے پر مجبور کیا۔
مسلم دنیا میں پاکستان کا مقام
پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ آج حرمین شریفین کی حفاظت کا ذمہ ہمارے سپرد ہوا ہے۔ یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں۔ اللہ کے گھر اور روضہ رسول ﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھانا صرف ایک عسکری معاملہ نہیں بلکہ روحانی اور ایمانی شرف ہے۔ سعودی عرب نے پہل کی اور اب ان شاء اللہ گلف کے سات ممالک اور قطر بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کریں گے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا پاکستان کو اپنا فطری قائد ماننے لگی ہے۔pak saudia relation ایران سے لے کر ترکی تک، آذربائیجان سے لے کر ملائشیا اور انڈونیشیا تک، ہر جگہ پاکستان کے جرات مندانہ موقف کو عزت اور پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک، جو کبھی بھارت کے زیر اثر تھے، اب پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات
کامیاب خارجہ پالیسی کا دوسرا بڑا پہلو عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کا نیا توازن ہے۔ امریکہ کی جنگ بندی کی درخواست پاکستان نے قبول کر کے وہائٹ ہاؤس تک اپنا اثر رسوخ قائم کر لیا۔ چین نے اپنی تقریبات میں پاکستان کو خصوصی مہمان بنا کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاک چین تعلقات اب محض کاغذی معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ دل سے دل کا رشتہ ہیں۔
روس اور سینٹرل ایشیائی ریاستیں دس مئی کی جنگ کے بعد پاکستان کو بالکل مختلف تناظر میں دیکھ رہی ہیں۔ اب وہ ہمیں محض ایک خطے کی ریاست نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی فیصلوں میں شریک طاقت سمجھتی ہیں۔ آرمینیا کو چونتیس سال بعد بطور ساورن اسٹیٹ تسلیم کرنا پاکستان کی پختہ سفارت کاری کا ثبوت ہے۔
افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں
پاکستان کی سرزمین پر بیٹھ کر ملک دشمن عناصر کی پناہ گاہیں ختم کر دی گئیں۔ افغانستان میں چھپے دہشت گردوں کا صفایا جاری ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان اب دہشت گردی کے خلاف صرف نعرے نہیں لگاتا بلکہ عملی اقدامات کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نائیجیریا جیسے ممالک ہم سے جہاز اور اسلحہ خریدنے لگے ہیں۔ اس اعتماد کے پیچھے صرف دفاعی صلاحیت نہیں بلکہ اخلاقی حیثیت بھی کارفرما ہے۔
گلوبل ساؤتھ کا ابھار اور پاکستان
آج عالمی سیاست میں ایک نیا بلاک جنم لے رہا ہے جسے "گلوبل ساؤتھ” کہا جا رہا ہے۔ چین اور روس اس کی قیادت کر رہے ہیں اور پاکستان اس کا سب سے اہم کھلاڑی بننے جا رہا ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جو کل تک عالمی مالیاتی اداروں کی دستاویزات میں محض "ڈیفالٹر” کےpak saudia طور پر درج تھا۔ آج یہ ملک مستقبل کے عالمی معاشی اور دفاعی ڈھانچے کی بنیادوں میں اپنی اینٹ رکھ رہا ہے۔
معیشت کی بحالی کا سفر
خارجہ پالیسی کی کامیابی کا ایک بڑا ثمر معیشت کی بحالی ہے۔ جب دنیا پاکستان پر اعتماد کرنے لگی، جب مسلم دنیا نے پاکستان کے دفاع پر بھروسہ کیا، جب عالمی طاقتوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی، تو لازمی تھا کہ اس کے اثرات معیشت پر بھی مرتب ہوں۔ اب وہ وقت قریب ہے جب پاکستان صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی طور پر بھی مستحکم ہو کر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا۔
عوامی تاثر اور قومی وقار
آج وہ وقت آ گیا ہے کہ عوام فخر سے کہتے ہیں: "الحمد للہ ثم الحمد للہ۔” جس ملک کو دنیا چند سال پہلے ناکام ریاست کہتی تھی، آج اسی کے ترانے دنیا کے مختلف خطوں میں گائے جا رہے ہیں۔ آذربائیجان کی گلیوں میں "دل دل پاکستان” کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، بنگلہ دیش کی انڈین لابیز پاکستان کے سامنے بے بس ہو چکی ہیں، اور نیپالی عوام کھلے عام پاکستان کے ساتھ اپنی ہمدردیاں جتا رہے ہیں۔
یہ ہے وہ مقام جہاں ایک قوم کو اپنی خارجہ پالیسی پر فخر ہونا چاہیے۔

ماضی کے طنز، آج کی شرمندگی
کل تک کچھ لوگ شہباز شریف کو طعنہ دیتے تھے کہ یہ سترہ کلومیٹر کا وزیر اعظم ہے۔ آج وہی لوگ نظریں جھکائے پھرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قیادت کی اصل پہچان اس کے نتائج سے ہوتی ہے۔ آج کے پاکستان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر نے قوم کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا ہے جس پر آگے صرف ترقی، وقار اور کامیابی ہے۔کامیاب خارجہ پالیسی وہ ہوتی ہے جس کے اثرات قوم کے ہر شعبے پر نظر آئیں۔ pakistan flagآج پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ثمرات کھلے عام دکھائی دے رہے ہیں۔ دفاعی سطح پر پاکستان مسلم دنیا کا اعتماد حاصل کر چکا ہے، سفارتی سطح پر عالمی طاقتوں کے ساتھ نئے تعلقات استوار ہو رہے ہیں، معیشت بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے، اور عوامی وقار بحال ہو چکا ہے۔
یہ ہے کامیاب خارجہ پالیسی کی اصل تعریف۔ پاکستان اب اڑان بھر چکا ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد پاکستان نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی طور پر بھی دنیا کی ایک اہم طاقت بنے گا۔ اللہ اس ملک کو نظرِ بد سے بچائے اور اسے ہمیشہ سربلند رکھے۔

ویل ڈن وزیر اعظم شہباز شریف صاحب اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب !!

شاہد نسیم چوہدری

post bar salamurdu

شاہد نسیم چوہدری

2001 سے فیصل آباد سے صحافی، کالم نگار، فیچر رائٹر اور انٹرویور۔ صدر ورلڈ کالمسٹ کلب فیصل آباد ڈویژن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button