ننھے بچوں کو موبائل دیں، اور ان کی ذہنی نشوونما خود برباد کریں!
ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے خوش رہیں، محفوظ رہیں اور ان کی زندگی بہتر ہو۔ ہم ان کے لیے اچھے کپڑے، مزیدار کھانے، اچھے اسکول اور آرام دہ ماحول کا انتظام کرتے ہیں۔ مگر اکثر ہم یہ نہیں سوچتے کہ جو چیز ہم سہولت کے طور پر ان کے ہاتھ میں دے رہے ہیں، وہ ان کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔ خاص طور پر جب بات ایک یا دو سال کے بچوں کی ہو، جو ابھی دنیا کو سمجھنا سیکھ رہے ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ کی غیر محدود رسائی ان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
چھوٹے بچوں کی ذہنیت بہت نازک اور حساس ہوتی ہے۔ ان کا دماغ ہر چھوٹی چیز کو جذب کر لیتا ہے، اور جو مواد وہ دیکھتے ہیں، وہ ان کے سوچنے کے طریقے، جذبات اور رویے پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ ایک موبائل فون جو ہم انہیں صرف اس لیے دیتے ہیں کہ وہ رونا بند کریں یا ہم کچھ کام مکمل کر سکیں، دراصل ان کی توجہ اور احساسات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ سہولت عارضی سکون دیتی ہے، مگر طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انٹرنیٹ ایک کھلی دنیا ہے، مگر اس کھلے ماحول میں بچے کے لیے خطرات بھی موجود ہیں۔ ویب سائٹس، ویڈیوز اور ایپس میں علم اور تفریح دونوں ہوتے ہیں، لیکن ساتھ میں غلط معلومات، تشدد، غیر اخلاقی مناظر اور ایسے رجحانات بھی شامل ہیں جو بچوں کی کم عمر میں جذبات اور رویے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک بالغ شخص بھی ہر مواد کی حقیقت اور مناسبیت کا فیصلہ مشکل سے کر پاتا ہے، تو چھوٹا بچہ کیسے اس سمندر میں خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے؟ اگر بچے کو مکمل آزادی دے دی جائے کہ وہ جو چاہے دیکھے، تو وہ بہت جلد ایسی چیزوں کے سامنے آ سکتا ہے جو اس کی عمر اور ذہنی سطح کے لیے موزوں نہیں۔
پہلا اثر تو بچے کی ذہنی نشوونما پر پڑتا ہے۔ چھوٹا بچہ جو بھی بار بار دیکھتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اس کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر وہ تشدد یا غیر اخلاقی مناظر دیکھتا ہے، تو اس کی حساسیت متاثر ہو سکتی ہے اور رشتوں کے احترام کا شعور کمزور ہو سکتا ہے۔ اگر وہ رنگین، مصنوعی اور دھوکہ دینے والی چیزیں دیکھتا ہے تو اپنی حقیقی دنیا سے غیر مطمئن ہو سکتا ہے۔ یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہیں، مگر دیرپا اثر ڈالتی ہیں اور بچپن کے بنیادی اصولوں کو کمزور کر دیتی ہیں۔
دوسرا بڑا نقصان توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کا مواد تیز، مختصر اور فوری تسکین دینے والا ہوتا ہے۔ چھوٹے ویڈیوز، متحرک تصاویر اور کھیل کا تیز رفتار ماحول بچے کے دماغ کو عادت دے دیتا ہے کہ ہر چیز فوراً ملے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کتاب کے چند الفاظ پڑھنا یا کسی چھوٹی سی ہدایت کو پورا سننا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔ بچے کی توجہ مختصر ہو جاتی ہے اور مستقل مزاجی کمزور ہو جاتی ہے۔ وہ گہرائی میں سوچنے کی بجائے صرف سطحی معلومات پر اکتفا کرنے لگتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک بڑا نقصان عادت اور انحصار کا ہے۔ موبائل فون آہستہ آہستہ صرف سہولت نہیں بلکہ ضرورت بن جاتا ہے۔ اگر بچہ کچھ دیر کے لیے موبائل سے دور رہے، تو بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے۔ کھیلنے اور دوڑنے کی عادت کم ہو جاتی ہے، جسمانی سرگرمی محدود ہو جاتی ہے اور نیند کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ رات دیر تک اسکرین دیکھنے سے نہ صرف آنکھوں اور دماغ پر اثر پڑتا ہے، بلکہ اگلے دن کے لیے توانائی بھی کم ہو جاتی ہے۔ جس بچپن کو کھیل، دوستی اور جسمانی سرگرمی بھرپور ہونا چاہیے، وہ آہستہ آہستہ ایک اسکرین تک محدود ہو جاتا ہے۔
چوتھا نقصان اخلاقی اور سماجی شعور پر پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر شخص وہ نہیں ہوتا جو وہ ظاہر کرتا ہے۔ جعلی پروفائل، نامعلوم دوستیاں اور ذاتی معلومات کا غلط استعمال عام ہیں۔ چھوٹے بچے اکثر اعتماد میں آ کر ایسی معلومات شیئر کر دیتے ہیں جو بعد میں خطرہ بن سکتی ہیں۔ وہ آن لائن دنیا کی حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ ہر مسکراہٹ یا ہر بات مخلصانہ نہیں ہوتی۔ یہ ان کے سماجی شعور اور اعتماد کی بنیاد پر اثر ڈال سکتی ہے۔
پانچواں نقصان اقدار اور رویے پر پڑتا ہے۔ مسلسل تیز اور آسان مواد دیکھنے سے بچے میں صبر اور برداشت کم ہو سکتی ہے۔ وہ فوری تسکین اور آسان حل کی عادت پیدا کر لیتے ہیں۔ محنت اور انتظار کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور یہ عادت زندگی کے بڑے فیصلوں میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بچوں کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر چیز فوراً نہیں ملتی اور جدوجہد کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔
کچھ والدین سوچتے ہیں کہ ان کا بچہ سمجھدار ہے اور خود احتیاط کر لے گا، مگر تربیت صرف سمجھداری پر نہیں بلکہ ماحول پر بھی منحصر ہے۔ اگر ماحول میں بچے کے لیے بے شمار غیر مناسب مواقع موجود ہوں، تو لغزش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچے کے ماحول کو محفوظ اور محدود بنائیں۔
اس کا حل یہ نہیں کہ موبائل اور انٹرنیٹ سے مکمل دوری اختیار کر لی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال زندگی کا حصہ ہے اور یہ بچے کے لیے بھی مستقبل میں اہم ہوگا۔ حل یہ ہے کہ رسائی محدود ہو اور نگرانی موجود ہو۔ اگر موبائل دینا ضروری ہو، تو اس کے اوقات مخصوص کریں، حفاظتی فلٹرز اور کنٹرولز لگائیں اور موبائل کا استعمال ایسی جگہ پر کروائیں جہاں والدین دیکھ سکیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ بچے کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری رہے۔ اگر بچہ کسی چیز سے الجھن میں ہو، تو وہ والدین کے پاس آ کر بات کر سکے۔
چھوٹے بچوں کے لیے سب سے بڑی تربیت موجودگی اور محبت ہے۔ انہیں کہانیاں سنائیں، کھیلیں، ان کے سوالوں کا جواب دیں، کتابوں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ یہ سب چیزیں بچے کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے بنیادی ہیں۔ موبائل اگر دیا جائے، تو والدین کے ساتھ رہنمائی اور گفتگو بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر، ایک خاموش اسکرین بچے کی سوچ پر خود اثر ڈالنے لگتی ہے۔
یاد رکھیں، بچپن ایک بنیاد ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو جائے، تو مستقبل مضبوط نہیں رہ سکتا۔ بچے کی معصومیت، ان کا تجسس اور ہر نئی بات سیکھنے کی خواہش قیمتی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وقت کی اہمیت سمجھیں اور ہر سہولت کے ساتھ دور اندیشی اور حفاظت کا خیال رکھیں۔ موبائل ایک آلہ ہے، مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم سمجھداری سے فیصلے کریں، تو بچے کے ذہن اور کردار کو غیر ضروری خطرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
وقت اور محبت کے ذریعے ہم بچے کی حقیقی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ اگر ہم انہیں موجودگی، توجہ اور رہنمائی دیں، تو وہ سکون اور خوشی پا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، آنے والا کل انہی ہاتھوں میں ہے جو آج ہمارے سامنے معصومیت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی ہاتھ محبت، علم اور محفوظ تربیت کا پہلا ذریعہ ہیں۔
منیب الرحمن عارفیؔ








