آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضمیر قیس

سانس لینا بھی مدد گار

ضمیر قیس کی ایک اردو غزل

سانس لینا بھی مدد گار نہیں ہوتا ہے
ہجر ورنہ کوئی آزار نہیں ہوتا ہے
لوگ آتے ہیں کئی دل میں ، چلے جاتے ہیں
اس زمیں کا کوئی حق دار نہیں ہوتا ہے
یہ تو عادت ہے فقیروں کو دعا کرنے کی
دینے والوں سے ہمیں پیار نہیں ہوتا ہے
ہر نئے لمس کی تاثیر الگ ہوتی ہے
دل کسی زخم سے بے زار نہیں ہوتا ہے
چاہتا ہوں کوئی الزام تراشی نہ کرے
مسکرانا مجھے دشوار نہیں ہوتا ہے
لوگ مفلوج کو بے جان سمجھ لیتے ہیں
ورنہ گریہ کوئی اظہار نہیں ہوتا ہے
جو بھی ملتا ہے اسے درد سنا دیتا ہوں
مفلسی کا تو یہ معیار نہیں ہوتا ہے
ہم غریبوں کے مسائل میں اضافے کے لیے
عید جیسا کوئی تہوار نہیں ہوتا ہے
نی٘ت ِ عشق ذرا سوچ کے ہی باندھ ضمیر
یہ وہ روزہ ہے جو افطار نہیں ہوتا ہے

ضمیر قیس

post bar salamurdu

ضمیر قیس

ضمیرقیس ملتان سے تعلق رکھنے والا شاعر ہے غزلوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں اس کے پہلے مجموعے سے ہی اس کی غزل اٹھان نے ثابت کردیا تھا کہ ملتان سے غزل کا ایک اہم شاعر منظر عام پر آرہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button