18 دسمبر, 2019

    نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    13 جنوری, 2026

    ذہن سے دل کا بار اترا ہے

    ابن صفی کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    فراقِ یار میاں ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے

    سمیر شمس کی اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی

    غزل از اسداللہ خان غالب
    12 جون, 2020

    جانے کیا دل پہ بار ہے ایسا

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    7 نومبر, 2021

    آ گیا ہے کوئی بام پر غالباً

    ایک اردو غزل از حسن فتحپوری
    18 دسمبر, 2019

    بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2019

    بڑھی جو حد سے

    مجید امجد کی اردو غزل
    31 مئی, 2024

    کیسے رہیں نہ لوگ یہاں

    ثبین سیف کی ایک غزل
    3 جولائی, 2025

    کہاں پہ بولنا ہے

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    مُرغِ حریص و کِبر مُقَفَّل پَسَند ہے

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    10 فروری, 2020

    پھر ہوا وقت کہ ہو

    ایک اردو غزل از مرزا غالب
    26 جون, 2020

    مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 جنوری, 2020

    بلا کا ضبط کیا، حوصلے سے چال چلی

    ایک اردو غزل از احمد آشنا
    16 جنوری, 2020

    جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button