28 جون, 2020

    سب سرگذشت سن چکے اب چپکے ہو رہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    24 مئی, 2020

    تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے

    ایک اردو غزل از عدیم ہاشمی
    7 اپریل, 2020

    رہتے ہیں یہ جو آپ کے اتنے قریب لوگ

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    9 نومبر, 2025

    یہ آگہی کی مسافت یہ ہاؤ ہو کی تھکن

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    23 دسمبر, 2025

    آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    دل خدا جانے کس کے پاس رہا

    میر حسن کی اردو غزل
    21 مئی, 2020

    ہم خانہ خرابوں کو بھلے ٹھیک نہ سمجھو

    سعید خان کی اردو غزل
    23 مئی, 2020

    خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    22 مارچ, 2020

    جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

    ادا جعفری کی ایک غزل
    13 جنوری, 2026

    آج کی رات کٹے گی کیوں کر

    ابن صفی کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    آنکھوں کو زخم زخم تو دل کو لہو کریں

    سعید خان کی اردو غزل
    8 دسمبر, 2025

    کہاں کسی نے ہمارے عذاب دیکھے ہیں

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
    29 جون, 2020

    اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    26 جون, 2020

    کیا پوچھتے ہو آہ مرے جنگجو کی بات

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button