19 نومبر, 2019

    کتنی زلفیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر

    ایک غزل از وصی شاہ
    27 جون, 2020

    دل پہ ہے جب سے دباؤ یاد کا

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل
    2 اپریل, 2020

    مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

    تہذیب حافی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    6 جون, 2020

    ذہن و دل میں بیٹھ کر

    ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا
    28 جون, 2020

    ملا یا رب کہیں اس صید افگن سربسر کیں کو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 اکتوبر, 2020

    اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    16 دسمبر, 2019

    ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے

    مجید امجد کی اردو غزل
    7 نومبر, 2021

    احساس بھی شرماے ھے وہ گل بدنی ھے

    ایک اردو غزل از حسن فتحپوری
    4 جنوری, 2020

    عادتاً تم نے کر دیے وعدے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    1 دسمبر, 2019

    گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    8 مئی, 2022

    ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی

    راکب مختار کی ایک اردو غزل
    2 نومبر, 2025

    قباحت ایسی بھی کیا ہے

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    26 اگست, 2025

    ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا

    اوریا مقبول جان کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button