- Advertisement -

اے کاش کہ گزرا وقت کبھی اک بار ہمارے ہاتھ آئے

منزّہ سیّد کی ایک غزل

اے کاش کہ گزرا وقت کبھی اک بار ہمارے ہاتھ آئے
ہنستےہوئے دن پہلو میں لئے مہکی سی ملن کی رات آئے

مجھ کو بانہوں میں لے کر جب یاد کرے گزری باتیں
تو اس کی ہر اک بات میں بس میری شوخی کی بات آئے

ماضی کی جادو نگری میں اے کاش چلے جائیں پھر سے
میں گھونگھٹ کاڑھ کے بیٹھوں اور وہ لے کر پھر بارات آئے

جل تھل ہو جائیں ہم دونوں جزبات کے گزرے ساون میں
گر ہاتھ پکڑ کر ماضی کا خوشیوں سے بھری برسات آئے

وہ اپنی دنیا مان کے جب الجھی زلفیں سلجھائے گا
شاید کہ اس کی ذات کے محور میں میری بھی ذات آئے

اُس کی غفلت کو دیکھ کے میرا دل بےچین ہوا اکثر
جیون کی رام کہانی میں کچھ ایسے بھی لمحات آئے

منزّہ سیّد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل