12 اکتوبر, 2025

    خوف طاری نہیں ہوتا

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    جلے ایسی شناسائی

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    28 نومبر, 2019

    تیرا حسنؔ یہ رونا یونہی

    میر حسن کی اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    پھر کہو گے تم مقابل کی سزا کے واسطے

    ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
    28 مئی, 2020

    جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    15 مئی, 2020

    یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    زندگی کا لطف

    حفیظ جالندھری کی ایک غزل
    25 اکتوبر, 2019

    یاد کا پھر کوئی دروازہ

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    30 جون, 2020

    جب نسیم سحر ادھر جا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 نومبر, 2019

    درد ہو دل میں تو دوا کیجے

    ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
    20 دسمبر, 2019

    ہر شے ہے پر ملال بڑی تیز دھوپ ہے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    30 اپریل, 2020

    روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    8 اپریل, 2020

    کرتے پھرتے ہیں غزالاں ترا چرچا صاحب

    ایک اردو غزل از ادریس بابر
    6 جون, 2020

    میں اپنے فن سے ترا ذائقہ بدل لوں گا

    صدیق صائب کی ایک اردو غزل
    2 فروری, 2020

    درد جب صبر کے دھاروں سے نکل آئے تھے

    رانا عثمان احمر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button