اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

آرزو کی ہے اس ادا کے ساتھ

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

آرزو کی ہے اس ادا کے ساتھ
حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ

موج حالات کا فریب نہ پوچھ
ہم ابھرتے ہیں ہر صدا کے ساتھ

اپنی آواز پر گماں کیسا
ہو گئے چپ نہ ہمنوا کے ساتھ

بات کی داستان کیا معنی
درد تھا درد آشنا کے ساتھ

اپنا دامن بھی وہ بچاتے ہیں
بے تکلف بھی ہیں گدا کے ساتھ

ایسے موسم کی انتہا معلوم
دل برسنے لگا گھٹا کے ساتھ

کسی گل کے نہ ہم رہے باقیؔ
دو قدم کیا چلے صبا کے ساتھ

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button