آپ کا سلاماردو غزلیاتحسن فتحپوریشعر و شاعری

اس عشق میں گواہ نہ کوئی دلیل ہے

ایک اردو غزل از حسن فتحپوری

اس عشق میں گواہ نہ کوئی دلیل ہے
منصف بھی دل ہے اور یہ دل ہی وکیل ہے

وہ آج پھر مکر گیا وعدے سے وصل کے
میری گزارشوں پہ وہی قال و قیل ہے

ظالم ہو بادشاہ تو رب نے بتا دیا
فرعون وقت کے لیے دریاء نیل ہے

ہو جائے گا طویل تری بے وفائی سے
یہ فاصلہ جو عشق کا دو چار میل ہے

مہکی ہوئی ہے ان سے مرے دل کی کائنات
یادوں کے کچھ کنول ہیں تصور کی جھیل ہے

برباد مت کرو اسے نفرت کی آگ سے
دنیا محبتوں کی حسین و جمیل. ہے

انصاف کس سے مانگئے ظالم کے شہر میں
یاں تو نہ عدلیہ ہے نہ کوئی عدیل ہے

جو چاہے آئے شہر محبت میں اے حسن
در پے نہ کوئی اور نہ کوئی فصیل ہے

حسن فتحپوری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button