12 دسمبر, 2021

    یہ الگ بات پکارا تو نہیں جا سکتا

    خالد سجاد کی ایک اردو غزل
    18 جنوری, 2025

    انہیں یہ خوف کہ زلفوں میں

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    31 دسمبر, 2019

    میں چھوٹے لوگوں کو پہلے

    عمران عامی کی ایک اردو غزل
    28 جولائی, 2020

    اپنے اشعار کا عنوان کروں گامیں یار

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    1 مارچ, 2026

    اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

    سعید شارق کی ایک اردو غزل
    26 اپریل, 2020

    ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    11 نومبر, 2025

    روٹھے کو منانے میں دیر کتنی لگتی ہے

    ایک اردو غزل از کویتا غزل مہرا
    8 دسمبر, 2019

    زمیں ملے کہیں ہمیں، کہیں تو آسماں ملے

    ایک غزل از نجمہ کھوسہ
    3 جنوری, 2020

    دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    30 جون, 2020

    کس فتنہ قد کی ایسی دھوم آنے کی پڑی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    24 جنوری, 2020

    شاخ بے نمو پر بھی عکس گل جواں رکھنا

    ایک اردو غزل از جلیل عالی
    14 ستمبر, 2025

    جھگڑنا کاہے کا میرے بھائی پڑی رہے گی

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    26 نومبر, 2025

    روغن چراغ کا نہ فتیلہ چراغ کا

    کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل
    31 جولائی, 2022

    آج سوچا ہے کہ ہستی ترا بیاں لکھوں

    شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
    26 اگست, 2025

    کوئی نئی چوٹ پِھر سے

    محسن نقوی کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button