25 جون, 2020

    وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    22 فروری, 2026

    زندگی کوچۂ اغیار میں ضم ہونی ہے

    عثمان علوی کی ایک اردو غزل
    22 اپریل, 2020

    بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑا

    ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک اردو غزل
    15 فروری, 2020

    مکاں سے دور کہیں لا مکاں سے ہوتا ہے

    ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل
    24 اپریل, 2020

    کل یوں ہی تیرا تذکرہ نکلا

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی
    9 مارچ, 2019

    دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیا

    ایک اردو غزل ندیم بھابھہ
    19 ستمبر, 2020

    سو طرح کے اٹھنے والے وسوسے ہیں مسئلے

    عشبہ تعبیر کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2019

    التماس

    مجید امجد کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    16 جون, 2024

    محو حیرت ہوں کہ

    شبیر احرام کی ایک اردو غزل
    8 دسمبر, 2025

    اگائیں کیسے یقین آنکھیں

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
    16 جنوری, 2025

    ایک خسارہ دیکھ چکے

    سیّد زوار کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2025

    دل میں شور برابر ہے

    احمد مشتاق کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2024

    کوئی صاف صاف دکھتا ہے

    غلام عباس ساغر کی ایک اردو غزل
    8 نومبر, 2017

    نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button