آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریطارق جاوید

سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے

طارق جاوید کی ایک اردو غزل

سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے
اب زندگی گزار تو صبرِ جمیل سے

میں نے دیے کی لو پہ تیرا اسم کیا پڑھا
اک روشنی سی پھوٹ پڑی تھی فصیل سے

دل کو سکون بخش دے اے خالق جہاں
تنگ آگیا ہے اب یہ جہانِ ذلیل سے

کیوں راس مجھ کو عشق بھی آیا نہیں میاں
کیوں سامنا ہوا مرا ہجرِ قلیل سے

طارق اب اس قدر بھی نہ سچے بنو یہاں
رد بھی کیا نہ جا سکے تم کو دلیل سے

طارق جاوید

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button