اردو غزلیاتخورشید رضویشعر و شاعری

بنا رہے کوئی دم نقش پا سے کون کہے

خورشید رضوی کی ایک اردو غزل

بنا رہے کوئی دم نقش پا سے کون کہے

ابھی نہ خاک اڑائے ہوا سے کون کہے

پئے نشاط نفس دو نفس بچا کے رکھے

یہ مدعا دل بے مدعا سے کون کہے

گئی تو بو ہی نہیں رنگ بھی گلوں سے گیا

پلٹ کے باغ میں آئے صبا سے کون کہے

وہ ملتفت ہیں مگر اب ہمیں دماغ نہیں

کہے ہوئے کو پھر اب ابتدا سے کون کہے

بہت سے روگ دعا مانگنے سے جاتے ہیں

یہ بات خوگر رسم دوا سے کون کہے

وہ دل کا درد وہ ناگفتنی سخن خورشیدؔ

خدا سے کہہ لیا خلق خدا سے کون کہے

خورشید رضوی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button