25 جون, 2020

    یار ہے میر کا مگر گل سا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    14 نومبر, 2021

    لگ کے دیـوار سـے ہــے کـھڑا آئنـہ

    عمران سیفی کی اردو غزل
    17 نومبر, 2019

    عمر گزرے گی امتحان میں کیا

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    30 دسمبر, 2019

    عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    7 مارچ, 2020

    ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی

    تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    تیرے چہرے کی تلاوت کی ہے

    تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2025

    دشمن کو سمجھ آئی نہیں یار ہماری

    ڈاکٹر فیصل شہزاد کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2025

    ساتھ دینے کا دلایا

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2025

    سب کو پاگل بنا رہی ہوں میں

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    میں آئینہ ہوں وہ میرا خیال رکھتی تھی

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    یہی جو سودا ہے مجھ

    امیر مینائی کی اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    تشنہ لبی میں گزری ہے یہ زندگی بہت

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    سلیمانِ سخن تو خیر کیا ہوں

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    آواز کس نے دی مجھے

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    10 اکتوبر, 2025

    پہلے پہلے کب بدلا تھا

    رحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button