اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
بہت روئے مگر رونے نہ پائے

کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں
مسافر رات بھر سونے نہ پائے

جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ
وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button